
نئی دہلی، 5 جون(ہ س )۔
عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ملک بھر میں مختلف پروگرام منعقد کیے گئے۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سمیت کئی مرکزی وزراء اور ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے ہم وطنوں کو مبارکباد دی۔ تمام رہنماو¿ں نے ماحولیاتی تحفظ، درخت لگانے، حیاتیاتی تنوع میں اضافہ، اور پائیدار ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور شہریوں سے فطرت کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
نائب صدرسی پی رادھا کرشنن نے عالمی یوم ماحولیات پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہندوستانی تہذیب میں فطرت کے ساتھ بقائے باہمی کی روایت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قدیم تمل متن تھروکرال کا پیغام، وسائل کا درست استعمال اور تمام جانداروں کا تحفظ آج پہلے سے کہیں زیادہ معنویت رکھتا ہے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کو اپنے طرز زندگی کا حصہ بنائیں اور پائیدار ترقی کے اصولوں کو اپنائیں۔
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ ماحول نہ صرف انسانی زندگی کی بنیاد ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے تئیں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہندوستانی پارلیمنٹ ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں ایک مثال قائم کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کمپلیکس میں پیپر لیس کام کرنے، سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی، پارلیمنٹ کی سبز عمارت، اور صاف ستھرا کیمپس جیسے کئی اقدامات کامیابی کے ساتھ نافذ کیے جا رہے ہیں۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور قابل تجدید توانائی میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک پیڑ ما کے نام مہم کو ایک عوامی تحریک قرار دیتے ہوئے، انہوں نے ہم وطنوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ماحولیاتی تحفظ میں اپنا حصہ ڈالیں۔
مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ماحولیاتی تحفظ اور صاف توانائی کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک آج دنیا میں قابل تجدید توانائی کی تیسری سب سے بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن، شمسی توانائی کی توسیع، اور جنگلات کے احاطہ میں اضافہ کو ہندوستان کے لیے اہم کامیابیوں کے طور پر بیان کرتے ہوئے، شاہ نے کہا کہ یہ کوششیں ماحولیات کے تحفظ اور اقتصادی ترقی کو تیز کر رہی ہیں۔
مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے اس موقع پر کہا کہ ”درخت لگانے کا مطلب ہے زندگی گزارنا“۔ درخت لگانے کو ماحولیاتی تحفظ کا سب سے آسان اور موثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ زمین کو محفوظ اور متوازن رکھنے کے لیے ہر شہری کو اس سمت میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے ماحولیاتی تحفظ اور اضافہ کے لیے اجتماعی عہد کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کی ایک چھوٹی سی کوشش بھی سرسبز، صاف اور صحت مند مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک پیڑماں کے نام مہم کے تحت ریاست گیر درخت لگانے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔ لکھنو¿ میں مہارشی چرک میڈیسنل فاریسٹ، کلین ایئر مینجمنٹ پروجیکٹ، 100 مرطوب زمینوں کا نوٹیفکیشن، اور درخت لگانے کی مہم-2026 کے لوگو کی نقاب کشائی جیسے پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ماحولیاتی تحفظ کو عوامی شراکت کی مہم بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اس موقع پر کہا کہ کلین، گرین اور صحت مند دہلی مشن کو ایک میگا پلانٹیشن مہم اور دارالحکومت میں 18 نمو آکسیجن پارکس کے افتتاح کے ذریعے تیز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دہلی والوں سے اپیل کی کہ وہ ایک پیڑ ماں کے نام مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے ہندوستانی ثقافت میں فطرت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی، جنگلات اور زمین کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے کہا کہ صاف ستھرے ماحول، سبز ترقی اور محفوظ مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ درخت لگانے، پانی کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے متوازن استعمال کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لوگوں سے ماحولیاتی تحفظ کو ایک عوامی تحریک بنانے کی اپیل کی۔
قابل ذکر ہے کہ عالمی یوم ماحولیات پہلی بار 5 جون 1973 کو منایا گیا تھا، اس کا آغاز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1972 میں ہونے والی اسٹاک ہوم کانفرنس کے فیصلے کے بعد کیا تھا۔ تب سے یہ دن ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی توازن اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
درحقیقت، عالمی یوم ماحولیات صرف ایک رسمی موقع نہیں ہے، بلکہ زمین اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک اجتماعی عزم ہے۔ اس سال ملک کی اعلیٰ قیادت نے ماحولیاتی تحفظ کو عوامی شرکت سے جوڑا ہے اور ہر شہری کو فطرت کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھانے کا پیغام دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ