جسٹس میناکشی مدن رائے نے پٹنہ ہائی کورٹ کی 48 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا
پٹنہ، 5 جون (ہ س)۔ جسٹس میناکشی مدن رائے نے جمعہ کو پٹنہ ہائی کورٹ کی 48 ویں چیف جسٹس کے طور پر عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ بہار لوک بھون میں منعقدہ تقریب میں گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین نے انہیں حلف دلایا۔ حلف لینے کے ساتھ
حلف برداری کی تقریب میں موجود وزیراعلیٰ اور دیگر


عہدے اور رازداری کا حلف لیتی ہوئیں چیف جسٹس جسٹس میناکشی مدن رائے


پٹنہ، 5 جون (ہ س)۔

جسٹس میناکشی مدن رائے نے جمعہ کو پٹنہ ہائی کورٹ کی 48 ویں چیف جسٹس کے طور پر عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ بہار لوک بھون میں منعقدہ تقریب میں گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین نے انہیں حلف دلایا۔ حلف لینے کے ساتھ ہی انہوں نے باقاعدہ طور پر چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیا۔

حلف برداری کی تقریب میں ریاست کے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری، نائب وزیراعلیٰ وجے کمار چودھری، وزیر رام کرپال یادو، عدلیہ کے سینئر حکام، انتظامی افسران اور مختلف شعبوں کی کئی نامور شخصیات موجود تھیں۔ حلف برداری کے بعد موجودہ لوگوں نے جسٹس میناکشی مدن رائے کو نئی ذمہ داری کے لیے مبارکباد دی۔

جسٹس میناکشی مدن رائے نے جسٹس سنگم کمار ساہو کی سبکدوشی کے بعد یہ اہم ذمہ داری سنبھالی ہے۔ جسٹس ساہو 4 جون 2026 کو ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کے بعد جسٹس رائے نے 5 جون 2026 کو پٹنہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کے طور پر چارج سنبھالا۔ وہ پٹنہ ہائی کورٹ کی دوسری خاتون چیف جسٹس بنی ہیں۔

جسٹس میناکشی مدن رائے 12 جولائی 1964 کو سکم میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم گنگٹوک کی تاشی نامگیال اکیڈمی (تب کے نامگچین اسکول) میں ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے لیڈی شری رام کالج سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے کیمپس لاء سینٹر سے سال 1989 میں ایل ایل بی کی پڑھائی مکمل کی۔

سال 1990 میں وہ دہلی بار ایسوسی ایشن میں شامل ہوئیں اور دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بطور وکیل پریکٹس شروع کی۔ اسی دوران انہوں نے سکم جوڈیشل سروس کا امتحان پاس کیا اور عدالتی خدمات میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ سمیت عدلیہ کے مختلف عہدوں پر کام کرتے ہوئے طویل تجربہ حاصل کیا۔

عدالتی خدمات میں بہترین کارکردگی کی بنیاد پر انہیں 15 اپریل 2015 کو سکم ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ وہ سکم ہائی کورٹ میں مقرر ہونے والی پہلی خاتون جج بھی تھیں۔ اپنے دورِ کار کے دوران انہوں نے کئی اہم معاملات کی سماعت کی اور عدالتی انتظامیہ میں فعال کردار ادا کیا۔

چیف جسٹس کے طور پر تقرری سے قبل انہوں نے سال 2018، 2019 اور 2020 میں قائم مقام چیف جسٹس (ایکٹنگ چیف جسٹس) کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کے علاوہ سال 2025 اور 2026 میں بھی انہوں نے سکم ہائی کورٹ کی قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر کام کیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے کولیجیم نے 22 مئی 2026 کو جسٹس میناکشی مدن رائے کو پٹنہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش مرکزی حکومت کو بھیجی تھی۔ مرکزی حکومت کی منظوری کے بعد ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

جسٹس رائے کی مدتِ کار نسبتاً مختصر رہے گی، کیونکہ وہ آنے والی 12 جولائی 2026 کو ریٹائر ہونے والی ہیں۔ اس کے باوجود عدالتی شعبے میں ان کے طویل تجربے اور انتظامی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ان سے پٹنہ ہائی کورٹ کے عدالتی اور انتظامی کاموں کو نئی سمت ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande