
پٹنہ، 5 جون (ہ س)۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بہار قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) کے انتخاب کے لیے اپنے چار امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی نے اس بارتنظیم، سماجی نمائندگی اورعوامی بنیاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کو امیدوار بنایا ہے۔ اعلان کردہ امیدواروں میں بھوجپوری فلموں کے مقبول اداکار اور گلوکار پون سنگھ، ڈاکٹر سنجے میوکھ، انیل کمار ٹھاکر اور شیلا پنڈت شامل ہیں۔
بھوجپوری سنیما کے معروف اداکار اورگلوکار پون سنگھ طویل عرصے سے بی جے پی سے وابستہ ہیں اور مختلف سیاسی و سماجی پروگراموں میں سرگرمی سے حصہ لیتے رہے ہیں۔ پارٹی نے انہیں قانون ساز کونسل کے انتخاب میں امیدوار بنا کر ان کی عوامی مقبولیت پر بھروسہ ظاہر کیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ ان کی امیدواری سے خاص طور پر بھوجپوری بولنے والے علاقوں اور نوجوان ووٹروں کے درمیان ایک مثبت پیغام جائے گا۔
بی جے پی کے قومی ترجمان اور قومی میڈیا کے شریک انچارج ڈاکٹر سنجے میوکھ کو پارٹی نے ایک بار پھر امیدوار بنایا ہے۔ وہ مسلسل دو مدت سے بہار قانون ساز کونسل کے رکن رہ چکے ہیں۔ تنظیمی کاموں، میڈیا مینجمنٹ اور سیاسی حکمتِ عملی میں ان کے فعال کردار کو دیکھتے ہوئے پارٹی نے ان پر دوبارہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ کائستھ برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر میوکھ کی پہچان ایک بااثر مقرر اور تنظیم کے مخلص کارکن کے طور پر رہی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی نائب صدر انیل کمار ٹھاکر بھی پارٹی کے نامزد امیدواروں میں شامل ہیں۔ پورنیہ علاقے سے تعلق رکھنے والے انیل ٹھاکر طویل عرصے سے تنظیم میں سرگرم ہیں اور ریاستی وزیر (پردیش منتری) سمیت کئی اہم ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ نائی (ٹھاکر) برادری کی نمائندگی کرنے والے انیل ٹھاکر کی امیدواری کو تنظیم کے تئیں ان کی وفاداری اور طرزِ عمل کا اعتراف مانا جا رہا ہے۔
بی جے پی نے خواتین کی قیادت کو فروغ دیتے ہوئے شیلا پنڈت کو بھی امیدوار بنایا ہے۔ پرجاپتی برادری سے تعلق رکھنے والی شیلا پنڈت فی الحال چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کی رکن ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بی جے پی تنظیم میں بھی مختلف عہدوں پر اہم ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔ ان کی امیدواری کو خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی شمولیت کی سمت میں پارٹی کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے امیدواروں کے انتخاب میں سماجی اور علاقائی توازن کا خاص خیال رکھا ہے۔ راجپوت، کائستھ، نائی (ٹھاکر) اور پرجاپتی برادری سے امیدوار اتار کر پارٹی نے مختلف طبقات کو نمائندگی دینے کا پیغام دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن