
نئی دہلی، 04 جون (ہ س)۔ جمعرات کو مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی میںراشٹریہ ای-ودھان ایپلیکیشن (نیوا) کے نفاذ کے لیے سہ فریقی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ نیوا پارلیمانی امور کی وزارت کا ایک مشن موڈ پروجیکٹ ہے۔ اس کا مقصد ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ملک بھر میں قانون ساز اسمبلیوں کے کام کاج کو ڈیجیٹل اور جدید بنانا ہے۔
ایم او یو پر دستخط کرنے کے موقع پر پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو، قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارجن رام میگھوال، اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت ڈاکٹر ایل مروگن اور مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر رتھندر بوس موجود تھے۔ وہیں، مغربی بنگال کے وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تقریب میں شرکت کی۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے، کرن رجیجو نے قانون ساز اداروں کے اندر ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مغربی بنگال کی قانون ساز اسمبلی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل ہاو¿س بنانے کے لیے حکومت ہند کے عزم کا اعادہ کیا۔
مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر، رتھندر بوس نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نیوا کے نفاذ سے ریاست میں قانون سازی کے عمل کی کارکردگی، شفافیت اور رسائی میں اضافہ ہوگا۔ مزید برآں، مغربی بنگال کے وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے گورننس اداروں کو جدید بنانے کے ریاستی حکومت کے عزم کو دہرایا۔
اس مفاہمت نامے پر دستخط کے ساتھ، مغربی بنگال کی قانون ساز اسمبلی نیوا پہل میں شامل ہونے والی ملک کی 33ویں قانون ساز اسمبلی بن گئی ہے۔ یہ قانون ساز انتظامیہ کے لیے ’ون نیشن ون اپلیکیشن‘ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی طرف قوم کے لیے ایک اور قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔ آج تک، 21 قانون ساز اسمبلیاں کامیابی کے ساتھ نیوا پلیٹ فارم کے ذریعے کام کے مکمل ڈیجیٹل موڈ میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی