
ناگپور، 4 جون (ہ س) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اپنی صد سالہ تقریبات کے بعد تنظیمی ڈھانچے اور طریقۂ کار میں اہم تبدیلیاں کرنے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔ ان مجوزہ تبدیلیوں کی جھلک اس سال منعقدہ قومی سطح کے ’’کاریکرتا وکاس ورگ (دوم)‘‘ میں نمایاں طور پر دیکھی گئی، جہاں تنظیم کے مستقبل کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے کل وقتی کارکنان، یعنی پرچارکوں، کی تعداد میں اضافہ کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔
ناگپور میں منعقدہ کاریہ کرتا وکاس ورگ (دوم) میں ملک کے مختلف صوبوں سے منتخب 880 تربیت حاصل کرنے والے کارکنان شریک ہوئے۔ ان میں 235 تربیت یافتگان پرچارک زمرے سے تعلق رکھتے ہیں، جو مجموعی شرکاء کا تقریباً 26 فیصد بنتے ہیں۔ سنگھ کی تنظیمی ساخت میں پرچارکوں کو نہایت اہم مقام حاصل ہے کیونکہ شاخوں کے فروغ، تنظیمی توسیع، سماجی سرگرمیوں کے انتظام اور قیادت سازی میں ان کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں اس سال تربیتی کیمپ میں پرچارکوں کی نمایاں شرکت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
11 مئی سے شروع ہونے والے اس تربیتی پروگرام میں رضاکاروں کو روزانہ شاخوں کے انتظام، سماجی خدمات، تنظیمی توسیع اور قیادت کی صلاحیتوں سے متعلق مختلف موضوعات پر خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔ شرکاء کے پس منظر پر نظر ڈالیں تو 583 رضاکار مختلف پیشوں سے وابستہ ہیں، جبکہ 62 شرکاء طلبہ ہیں۔ ان میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے طلبہ بھی شامل ہیں۔ تعلیمی اعتبار سے 413 شرکاء گریجویٹ اور 332 پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ اس کے علاوہ 31 شرکاء دسویں جماعت تک، 63 بارہویں جماعت تک تعلیم یافتہ ہیں، جبکہ 41 کارکنان دیگر تعلیمی زمروں سے تعلق رکھتے ہیں۔
سنگھ کے صد سالہ مرحلے کی تکمیل کے بعد آئندہ برس سے تنظیمی ڈھانچے میں بھی تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ حال ہی میں سمالکھا، ہریانہ میں منعقدہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی قومی عاملہ میٹنگ میں سرکاریاواہ دتاتریہ ہوسبالے نے ان تبدیلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔ موجودہ ’’پرانت‘‘ نظام کے بجائے ’’سمبھاگ‘‘ پر مبنی ڈھانچے کو زیادہ مؤثر انداز میں نافذ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
اس نئی تنظیمی ترتیب کے مطابق ضروریات میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں پرچارکوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ سنگھ اپنی عملی حکمتِ عملی میں بھی تبدیلی لا رہی ہے اور آئندہ برسوں میں عوامی بیداری، وسیع تر رابطہ مہم اور تشہیری سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ تنظیم کی جانب سے خاندانوں اور نوجوانوں کے ساتھ زیادہ مضبوط اور مؤثر رابطہ قائم کرنے کے لیے بھی خصوصی کوششیں کی جائیں گی۔ ان مجوزہ تبدیلیوں کے اثرات رواں سال کے کاریکرتا وکاس ورگ میں بھی واضح طور پر نظر آئے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صد سالہ مرحلے کے بعد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ تنظیمی اور عملی سطح پر ازسرِنو تشکیل کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ پرچارکوں کی بڑھتی تعداد، تربیت پر خصوصی توجہ اور سماج کے مختلف طبقات تک رسائی بڑھانے کی حکمت عملی کو تنظیم کے مستقبل کے فروغ اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے