ہندوستان-وینزویلاکے درمیان توانائی کی شراکت پر زور، اقتصادی تعاون کے نئے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال
نئی دہلی، 4 جون (ہ س)۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کے دورہ ہند کے دوران دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں طویل مدتی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی وینزویلا کے وفد کے ساتھ بات چیت کے دوران، دونوں مم
ترقی


نئی دہلی، 4 جون (ہ س)۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کے دورہ ہند کے دوران دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں طویل مدتی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی وینزویلا کے وفد کے ساتھ بات چیت کے دوران، دونوں ممالک نے کان کنی کے شعبے میں ممکنہ تعاون اور وسائل کی تشخیص پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

خارجہ سکریٹری (مشرق) رودریندر ٹنڈن نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، جب کہ ہندوستان تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہونے کے ناطے تیل کا ایک بڑا صارف ہے۔ لہذا، ہم توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان بہترین ہم آہنگی دیکھتے ہیں۔

ٹنڈن نے بتایاکہ وینزویلا اس ماہ اسپاٹ خریداری کے معاملے میں ہندوستان کا تیسرا سب سے بڑا تیل فراہم کنندہ بن کر ابھرا ہے۔ نتیجتاً، توانائی کی شراکت داری وزیر اعظم نریندر مودی اور وینزویلا کے وفد کے درمیان بحث کا ایک اہم موضوع تھا۔ وینزویلا کا توانائی کا شعبہ اہم تبدیلی سے گزر رہا ہے اور آنے والے برسوں میں ہندوستان کو ایک مستحکم ڈیمانڈ پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اپ اسٹریم اور ڈاون اسٹریم دونوں سطحوں پر تعاون کے امکانات موجود ہیں۔

وزارت خارجہ کے سیکرٹری نے کہا کہ وینزویلا صرف توانائی کے وسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ سونے، ہیروں اور دیگر معدنیات سے بھی مالا مال ہے۔ دونوں فریقوں نے کان کنی کے شعبے میں ممکنہ تعاون اور وسائل کی تشخیص پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس پر مزید عمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وینزویلامیں اب پائیدار اقتصادی ترقی کی طرف بڑھنے کے آثار دکھا ئی دے رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے کے علاوہ، ہندوستانی کمپنیوں کے لیے کان کنی، مویشی پالنے، نقل و حمل، زرعی آلات کی تیاری، آٹوموبائل اور دواسازی کے شعبے میں بھی نمایاں مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک نے نئے اقتصادی تعاون اور ان شعبوں میں ہندوستانی کمپنیوں کی بڑھ چڑھ کر شرکت پر تبادلہ خیال کیا۔

ٹنڈن کے مطابق، قائم مقام صدر روڈریگز 3 جون سے بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہے، جس میں خارجہ امور، مواصلات اور اطلاعات، اقتصادیات اور مالیات، سائنس و ٹیکنالوجی اور ٹرانسپورٹ کے وزراء بھی شامل ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ سرکاری بات چیت کی، جس کا اختتام ورکنگ ڈنر پر ہوا۔ قبل ازیں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ان سے ملاقات کی تھی جبکہ وزیر پٹرولیم بھی ان سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

برکس کے بارے میں ٹنڈن نے کہا کہ بات چیت میں اس کا ذکر کیا گیا لیکن بنیادی طور پر ہندوستان اور وزیر اعظم مودی کی برکس صدارت کو سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت، عملی اور نتیجہ خیز رہی۔ وینزویلا نے مشکل اور اچھے دونوں وقتوں میں ہندوستان کی حمایت کی تعریف کی اور ہندوستان کو مستقبل میں اپنے پسندیدہ شراکت داروں میں سے ایک قرار دیا۔

روڈریگز بدھ کو پانچ روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچیں جس کا مقصد ہندوستان اور وینزویلا کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکا نے 4 جنوری کو وینزویلا کے اس وقت کے صدر نکولس مادورو کا تختہ الٹ دیا تھا۔ روڈریگز اس کے بعد قائم مقام صدر بن گئیںہیں۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستان کو توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد ہندوستان متبادل سپلائرز کی تلاش میں ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande