معروف فلم ساز پہلاج نہلانی 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، چار دہائیوں پر محیط فلمی سفر کا ایک اہم باب اختتام پذیر
سابق چیئرمین سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے انتقال پر فلمی دنیا سوگوارممبئی ، 04 جون (ہ س)۔ ہندی سنیما کے ممتاز فلم ساز اور سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) کے سابق چیئرمین پہلاج نہلانی کا 76 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ ممبئی کے
ENTERTAINMENT MAHA PAHLAJ NIHALANI


سابق چیئرمین سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے انتقال پر فلمی دنیا سوگوارممبئی ، 04 جون (ہ س)۔ ہندی سنیما کے ممتاز فلم ساز اور سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) کے سابق چیئرمین پہلاج نہلانی کا 76 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں انہوں نے 4 جون کو آخری سانس لی۔ ان کی آخری رسومات آج سہ پہر 3 بجے ممبئی کے سانتا کروز شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر سے فلمی صنعت میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پہلاج نہلانی ہندی فلم انڈسٹری کے ان نمایاں فلم سازوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں تجارتی سنیما کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 1982 میں فلم ’’ہتھکڑی‘‘ سے بطور پروڈیوسر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد ’’الزام‘‘، ’’آگ ہی آگ‘‘، ’’شعلہ اور شبنم‘‘، ’’آنکھیں‘‘، ’’انداز‘‘، ’’تلاش‘‘، ’’رنگیلا راجا‘‘ اور ’’جولی 2‘‘ جیسی متعدد کامیاب فلمیں پیش کیں۔ بالخصوص ’’آنکھیں‘‘ نے باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی حاصل کر کے انہیں صنعت کے صف اول کے فلم سازوں میں شامل کر دیا۔

نئے فنکاروں کو موقع دینا بھی ان کی نمایاں خصوصیت تھی۔ انہوں نے 1986 میں فلم ’’الزام‘‘ کے ذریعے گووندا کو فلمی دنیا میں متعارف کرایا، جو بعد میں بالی ووڈ کے مقبول ترین اداکاروں میں شمار ہوئے۔ اسی طرح چنکی پانڈے کو بھی انہوں نے بڑا موقع فراہم کیا۔ بعد ازاں گووندا اور چنکی پانڈے کی جوڑی والی فلم ’’آنکھیں‘‘ نے ریکارڈ ساز کامیابی حاصل کی اور یادگار فلموں میں شامل ہو گئی۔

فلم سازی کے میدان میں کامیابیوں کے بعد پہلاج نہلانی کو 2015 میں سی بی ایف سی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ 2015 سے 2017 تک ان کا دور فلمی سنسرشپ کے حوالے سے ملک بھر میں ہونے والی بحثوں اور تنازعات کے سبب خاصا زیر بحث رہا۔ ’’اڑتا پنجاب‘‘، ’’اسپیکٹر‘‘ اور ’’جب ہیری میٹ سیجل‘‘ جیسی فلموں کے بارے میں ان کے فیصلوں نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی۔ جہاں ایک طبقے نے ان کے مؤقف کی حمایت کی، وہیں دوسرے طبقے نے انہیں اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانے والا قرار دیا۔ پہلاج نہلانی فلمی صنعت سے وابستہ مختلف تنظیموں میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے اور طویل عرصے تک پروڈیوسرز کے مفادات کی نمائندگی کرتے رہے۔ انہیں اپنی رائے بے باکی سے پیش کرنے والی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔

سندھی خاندان میں پیدا ہونے والے پہلاج نہلانی اپنے پس ماندگان میں اہلیہ نیتا نہلانی اور تین بیٹوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے بیٹے چراغ نہلانی بھی تخلیقی اور فلمی شعبے سے وابستہ ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ اداکارہ سوناکشی سنہا، لو سنہا اور کش سنہا ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔ سوناکشی سنہا کی والدہ پونم سنہا ان کی چچازاد بہن تھیں، جبکہ معروف اداکار اور سیاست دان شتروگھن سنہا بھی ان کے قریبی خاندانی تعلقات میں شامل تھے۔ مشہور ہدایت کار اور سنیماٹوگرافر گووند نہلانی ان کے بڑے بھائی ہیں۔

2021 میں وہ شدید علالت کا شکار ہوئے تھے۔ خون کی قے آنے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں تقریباً 28 دن تک ان کا علاج جاری رہا۔ بعد میں انہوں نے خود کہا تھا کہ وہ ’’موت کے منہ سے واپس لوٹے‘‘ ہیں۔ اس واقعے نے ان کی مضبوط قوتِ ارادی اور زندگی سے محبت کو اجاگر کیا تھا۔ فلمی تجزیہ کار اتل موہن نے ان کے انتقال کو ذاتی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلمی صنعت میں پہلاج نہلانی کو غیر معمولی احترام حاصل تھا اور فلم ڈسٹری بیوٹرز ان کے منصوبوں پر بھرپور اعتماد کرتے تھے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ فلم سازوں کو بروقت سرٹیفکیٹ دلانے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے تھے اور ضرورت پڑنے پر تعطیل کے دن بھی اسکریننگ کا اہتمام کرتے تھے۔

پہلاج نہلانی کا انتقال ہندی سنیما کے ایک اہم عہد کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بطور فلم ساز، منتظم، رہنما اور سی بی ایف سی کے سابق چیئرمین ان کی خدمات اور یادیں طویل عرصے تک فلمی دنیا میں زندہ رہیں گی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande