میانمار سے سپاری اسمگلنگ نیٹ ورک پر ای ڈی کی بڑی کارروائی، میزورم میں نو مقامات پر چھاپے
میانمار سے سپاری اسمگلنگ نیٹ ورک پر ای ڈی کی بڑی کارروائی، میزورم میں نو مقامات پر چھاپے نئی دہلی، 4 جون (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے میزورم-میانمار سرحد پر میانمار کی سوکھی چھالیہ (سپاری) کی اسمگلنگ سے منسلک منظم نیٹ ورک کے خلاف جمعرات
ای ڈی۔ لوگو


میانمار سے سپاری اسمگلنگ نیٹ ورک پر ای ڈی کی بڑی کارروائی، میزورم میں نو مقامات پر چھاپے

نئی دہلی، 4 جون (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے میزورم-میانمار سرحد پر میانمار کی سوکھی چھالیہ (سپاری) کی اسمگلنگ سے منسلک منظم نیٹ ورک کے خلاف جمعرات کو بڑی کارروائی کی ہے۔ ای ڈی نے میزورم کے سرحدی شہر چمفائی میں نو مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔ اس کارروائی کا مرکز اسمگلنگ نیٹ ورک سے جڑے اہم مقامی مددگاروں کی رہائش گاہیں اور تجارتی مراکز ہیں۔

ای ڈی نے بتایا کہ جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان میانمار سے تیاو ندی کے راستے بڑی مقدار میں غیر قانونی سپاری ہندوستان لاتے تھے۔ اس کے بعد مال کو مقامی گوداموں میں رکھا جاتا تھا اور فرضی ای-وے بلز اور جعلی دستاویزات کے ذریعے اسے مقامی سطح پر خریدا گیا قانونی مال بتا کر بازار میں سپلائی کیا جاتا تھا۔ جانچ ایجنسی کے مطابق، اس غیر قانونی کاروبار کے ذریعے سیکڑوں کروڑ روپے کا سرمایہ تیار کیا گیا اور اسے مختلف طریقوں سے چھپانے اور قانونی دکھانے کی کوشش کی گئی۔

ایجنسی کی ابتدائی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان نے سرحدی علاقے میں اپنی قبائلی شناخت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسٹم حکام کے سامنے ’فرنٹ کلیمینٹ‘ (مبینہ دعویدار) کے طور پر کردار ادا کیا۔ وہ ضبط کی گئی اسمگلنگ کی کھیپ کو چھڑانے کے لیے پرانی اور غیر متعلقہ امپورٹ دستاویزات کا استعمال کرتے تھے اور مال پر قانونی ملکیت کا دعویٰ کرتے تھے۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande