
نئی دہلی، 4 جون (ہ س)۔ کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش این ای ای ٹی کی طالبہ آکانکشا چترویدی کی خودکشی کو بدعنوان اور ناکام نظام کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ملک کے نوجوان اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ آکانکشا ڈاکٹر بن کر ملک اور سماج کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ اس کے والد، ایک کسان، نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ پر 3 لاکھ روپے کا قرض لیا اور ناگپور میں باورچی کے طور پر کام کیا تاکہ وہ میڈیکل کے داخلے کے امتحان کی تیاری کر سکے۔ خاندان نے ہر ممکن کوشش کی، لیکن این ای ای ٹی کا سوالیہ پرچہ لیک ہونے اور امتحان کے ارد گرد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے آکانکشا کوخودکشی کرنے مجبور کردیا۔
انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب تک اس معاملے میں صرف کمیٹیوں اور تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن نہ تو نظام میں بہتری آئی ہے اور نہ ہی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش کے مﺅگنج ضلع کی رہنے والی 18 سالہ اکانکشا چترویدی ناگپور میں رہتی تھی اور میڈیکل کے داخلہ امتحان کی تیاری کر رہی تھی۔ 20 مئی کو آکانکشا نے خودکشی کر لی۔ کچھ دنوں بعد، اس کے گھر والوں کو اس کی طرف سے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا خط موصول ہوا، جس میں اس نے اپنے والدین سے معافی مانگی تھی۔
خط میں آکانکشا نے لکھا کہ اس کے والدین کو اس سے ڈاکٹر بننے کی امید تھی، لیکن اب وہ دوبارہ این ای ای ٹی کا امتحان دینے کی ہمت نہیں رکھتی۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ اس نے اپنی پہلی کوشش میں اچھا اسکور کرنے کی امید کی تھی، لیکن حالات نے اس کا اعتماد توڑ دیا ہے اور اسے اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی بنا دیا ہے۔ خط کے آخر میں، اس نے اپنے والدین سے معافی مانگی اور خود کو ان کی توقعات پر پورا نہ اترنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی