
نئی دہلی،04جون(ہ س)۔
کانگریس نے مرکزی وزارت تعلیم اور سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) پر کلاس 9 اور 10 میں آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سسٹم اور تین زبانوں کے فارمولے کو جلد بازی اور من مانی طور پر نافذ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اس سے تعلیمی نظام انتشار کا شکار ہو جائے گا۔کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ سی بی ایس ای کی گورننگ باڈی نے نصاب کمیٹی کی سفارش کو واضح طور پر منظور کر لیا ہے کہ موجودہ زبان کا نظام اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک کہ این سی ای آر ٹی کی طرف سے درجہ بند نصابی کتابیں جاری نہیں کی جاتی ہیں۔ اس فیصلے پر اس وقت کے چیئرمین اور سیکریٹری نے بھی دستخط کیے تھے۔ اس کے باوجودمئی 2026 میں سی بی ایس ای نے ایک سرکلر جاری کیا جس میں کلاس 9 اور 10 میں 1جولائی سے تیسری زبان شامل کرنے کی ہدایت کی گئی اور اسکولوں سے کہا گیا کہ وہ کلاس 6 این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں سے کلاس 9 کے طلباءکو پڑھائیں۔انہوں نے سوال کیا کہ پچھلے چھ مہینوں میں کیا بدلا ہے جب این سی ای آر ٹی نے کلاس 9 اور 10 کے لیے زبان کی کوئی نئی نصابی کتاب جاری نہیں کی ہے۔ اس اقدام کا کوئی تعلیمی جواز نہیں ہے اور یہ لاکھوں طلباءکے تعلیمی مستقبل کو متاثر کر رہا ہے۔ وزارت تعلیم اور اس کے خود مختار ادارے تعلیمی ماہرین کے مشورے کے بجائے سیاسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔رمیش نے کہا کہ جب جوابدہی کی بات آتی ہے تو سی بی ایس ای کے اہلکاروں کو دفتر سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم مستعفی ہو جائیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan