
درگ ،4 جون (ہ س)۔ فی الحال، چھتیس گڑھ میں ایبولا وائرس کا ایک بھی تصدیق شدہ کیس نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے افریقی ممالک میں پھیلنے والے’بنڈیبگیو اسٹرین‘کے حوالے سے عالمی الرٹ جاری کیے جانے کے بعد ریاستی محکمہ صحت مکمل الرٹ موڈ پر کام کر رہا ہے۔ ریاست کے درگ ضلع میں حال ہی میں کانگو اور یوگنڈا سے واپس آنے والے تین مسافروں میں ایبولا کی کوئی فعال یا سنگین علامات نہیں پائی گئیں۔
درگ ضلع کلکٹر ابھیجیت سنگھ نے آج تصدیق کی کہ کانگو اور یوگنڈا سے درگ ضلع واپس آنے والے تین شہری صرف ممکنہ مشتبہ ہیں۔ وہ محکمہ صحت کی طرف سے فعال نگرانی میں ہیں۔ احتیاط کے طور پر، انہیں 21 دنوں کے لیے لازمی ہوم آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔ یہ ایک راحت کی بات ہے کہ تینوں میں سے کسی میں ایبولا کی کوئی فعال یا شدید علامات نہیں پائی گئی ہیں اور ان کی حالت مکمل طور پر مستحکم ہے۔ انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام (آئی ڈی ایس پی ) سے معلومات حاصل کرنے کے بعد، محکمہ صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متعلقہ افراد کی شناخت کرے اور انہیں گھر سے آئسولیشن رکھا جائے۔ انتظامیہ ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
مرکز سے موصولہ اطلاع کے مطابق ایتھوپیا اور یوگنڈا کے دو افراد مختلف ہوائی اڈوں کے ذریعے سیدھے درگ پہنچے جبکہ کانگو سے واپس آنے والا ایک شخص پہلے ممبئی میں رکا اور پھر درگ پہنچا۔ ریاست میں ایبولا وائرس سے متعلق وارننگ کے بعد محکمہ صحت اور انتظامیہ خصوصی احتیاط برت رہے ہیں۔ محکمہ صحت نے سوامی وویکانند ہوائی اڈے، رائے پور پر مسافروں کی نگرانی اور صحت کی جانچ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سرکاری ہدایات جاری کی ہیں۔
کلکٹر ابھیجیت سنگھ نے لوگوں سے گھبرانے کی بجائےمحتاط رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں افراد کی صحت فی الحال نارمل بتائی جارہی ہے اور احتیاط کے طور پر نگرانی اور ضروری صحت کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔
ریاستی محکمہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ رائے پور پنڈری ضلع اسپتال سمیت ریاست کے تمام بڑے میڈیکل کالجوں میں خصوصی 4 بستروں پر مشتمل آئسولیشن وارڈ مکمل طور پر کام کر چکے ہیں۔ انفیکشن سے بچنے کے لیے ان وارڈوں میں الگ الگ داخلی اور خارجی دروازے بنائے گئے ہیں۔ اضلاع میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے لیے پی پی ای کٹس، خصوصی ماسک اور لاجسٹکس کا مناسب ذخیرہ مختص کیا گیا ہے۔
قابل غور ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایبولا کے نئے افریقہ کے بالخصوص کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کے نئے’’بنڈیبگیو اسٹرین‘‘ کی وجہ سے 900 سے زیادہ مشتبہ معاملے سامنے آ چکے ہیں ، جن میں سے 223 اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ چونکہ فی الحال اس مخصوص اسٹرین کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں ہے، اس لیے احتیاط اور جلد آئسولیشن ہی اس سے بچاو کا اہم طریقہ کار ہے ۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد