ملک میں پہلی بار مدھیہ پردیش کی 12 باغبانی فصلوں کو جی آئی ٹیگ ملا
بھوپال، 30 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ایک ساتھ 12 باغبانی فصلوں کے لیے جغرافیائی اشاریہ (جی آئی ٹیگ) حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ملک میں یہ پہلی بار ہوا ہے، جب ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں جی آئی ٹیگ ملا ہے۔ رابطہ عامہ اف
جی آئی ٹیگ حاصل کرنے والی مدھیہ پردیش کی باغبانی فصلیں: فائل


بھوپال، 30 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ایک ساتھ 12 باغبانی فصلوں کے لیے جغرافیائی اشاریہ (جی آئی ٹیگ) حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ملک میں یہ پہلی بار ہوا ہے، جب ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں جی آئی ٹیگ ملا ہے۔

رابطہ عامہ افسر اونیش سومکنور نے منگل کو بتایا کہ ریاست کی جن باغبانی فصلوں کو جی آئی ٹیگ ملا ہے، ان میں گنا کا دھنیا، نرسنگھ پور برمان گھاٹ کا بینگن، بیتول گجریا آم، کھرگون کی لال مرچ، مانڈو کی خراسانی املی، جبل پور کی مٹر، سیونی کا سیتا پھل، مالوی آلو اور گراڈو، نرسنگھ پور کا گڑ، جبل پور کا سنگھاڑا، علی راج پور کا نورجہاں آم، برہان پور کا کیلا، اندوری جیراون، رتلام سیلانا بالم ککڑی اور چھترپور کا پان شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ اجین کی املی، علی راج پور کا اچاری آم، مالوا کا سفید پیاز، جھابوا کا دال پانیا، منندسور کا دیسی جیرا، برہان پور کی جلیبی اور اشوک نگر کی کھرنی کو جی آئی ٹیگ دلانے کے لیے تجویز بھیجی گئی ہے۔ کسان بہبود کے سال میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

کومبھ راج دھنیا کی گنا ضلع میں تقریباً 60 سالوں سے کھیتی کی جارہی ہے۔ یہ قسم 90-85 دن میں پک کر تیار ہوتی ہے۔ اس کی پیداوار تقریباً 15-12 کوئنٹل فی ہیکٹر حاصل ہوتی ہے۔ اس میں تقریباً 0.4 سے 0.50 فیصد تک اڑن تیل (واشپ شیل تیل) ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں بہت اچھی خوشبو اور مٹھاس آتی ہے۔ دھنیا گنا ضلع سے دیگر ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ کومبھ راج دھنیا کا ذائقہ دوسرے دھنیے کے مقابلے میں تیز اور بہتر ہے، اس کا چمکیلا ہرا رنگ، عمدہ شکل و صورت اور سائز نیز شاندار خوشبو ہے۔ اکیلے گنا میں سالانہ تقریباً 32,000 میٹرک ٹن دھنیا پیدا ہوتا ہے جو پورے ملک کی کل پیداوار کا 20 سے 25 فیصد ہے۔

نرمدا کی ریتلی مٹی میں پیدا ہونے والے بھٹے کا ذائقہ کچھ الگ ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باہر سے بھی لوگ اکثر اپنے ذرائع سے برمان کے بھٹے منگواتے ہیں اور منڈیوں میں برمان کے بھٹے کی تلاش رہتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نرمدا کے کنارے کم درجہ حرارت ہونے کی وجہ سے یہاں کے بھٹے کا ذائقہ منفرد رہتا ہے۔

بیتول ضلع میں کھیڈلا قلعہ، بھور گڑھ، سانولی گڑھ، شیر گڑھ اور اسیر گڑھ کے قلعے شامل ہیں جو 500 سال سے زیادہ پرانے قلعوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ قلعے ظاہر کرتے ہیں کہ بیتول گونڈ راجاوں کا مرکز تھا۔ پورے ہندوستان میں سب سے زیادہ دستیاب اور تقریباً ہر صوبے میں آسانی سے کاشت کیا جانے والا پھل آم ہے۔ تازہ پھل کے طور پر استعمال کے علاوہ آم کے پھلوں سے کئی محفوظ شدہ اشیاء (پریزرویٹیو پروڈکٹس) بنائی جاتی ہیں۔ کچے آم سے اچار، امچور وغیرہ بنائے جاتے ہیں جبکہ پکے آم سے اسکوائش، جوس، شربت، جیم اور اماوٹ وغیرہ تیار کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر آم کے باغات غیر سائنسی طریقے سے لگائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پیداواری صلاحیت انتہائی کم ہے۔

کھرگون ضلع کی مرچ سب سے اہم فصلوں میں سے ایک ہے۔ ضلع میں سال بہ سال مرچ کی کھیتی کا رقبہ اور پیداوار بڑھ رہی ہے۔ مرچ کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک یہاں کھرگون ضلع میں سناود کے پاس بیدیا میں واقع ہے۔ نیماڑ اور مالوا کے علاقے ریاست میں سب سے زیادہ مرچ پیدا کرنے والے علاقے ہیں۔ ان علاقوں کی لال مرچ چین، پاکستان، ملائیشیا اور سعودی عرب کو برآمد کی جاتی ہے۔

مانڈو کی مٹی کا جادو ایسا ہے کہ جو بھی یہاں آیا، وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ الگ الگ تہذیبوں کے شاہی خاندان ہوں یا یہاں کی نباتات، سب یہاں کی مٹی کے ساتھ ایک ہو گئے۔ ایسی ہی ایک مثال افریقہ کے خشک علاقے کا ’باوباب‘ درخت ہے۔ 14ویں صدی میں محمود خلجی کے دورِ حکومت میں اسے مانڈو لایا گیا تھا اور اس کا نام ’باوباب‘ سے بدل کر خراسانی املی کر دیا گیا تھا۔ اسے ایک اور نام ’مانڈوی املی‘ سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ درخت ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے جڑوں سمیت اس کو الٹا لگا دیا ہو۔ اس کی شاخیں اوپر اور تنا نیچے معلوم ہوتا ہے، جبکہ پتیاں صرف موسمِ برسات میں ہی آتی ہیں۔

سیونی ضلع میں 656 ہیکٹر رقبے میں 6,500 میٹرک ٹن سے زیادہ سیتا پھل کی پیداوار ہوتی ہے۔ سیتا پھل کا وزن 600 سے 700 گرام ہونے کی وجہ سے اس کا نام ’جمبو سیتا پھل‘ رکھا گیا ہے۔ اپنی مخصوص شکل اور ذائقے کی وجہ سے اس کی ریاست اور ملک میں بھی اچھی مانگ ہے۔

ہندوستانی آلو بیماریوں کے خلاف مدافعت، شکل، سائز، چھلکے کے رنگ وغیرہ کے معاملے میں بین الاقوامی معیار پر پورا اترتا ہے اور آلو کی پروسیسنگ اسے مزید معاشی اہمیت دیتی ہے۔ ہندوستان کے اندر، مدھیہ پردیش ریاست اس وقت آلو پیدا کرنے والی پانچویں بڑی ریاست ہے۔ ریاست کا حصہ 6.68 فیصد تھا اور 15-2014 سے 19-2018 کے درمیان پانچ سالوں کے لیے اوسط پیداوار 3225.95 ہے۔ مدھیہ پردیش کے کئی زرعی موسمی خطوں میں سے، مالوا کا علاقہ مدھیہ پردیش میں آلو کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہری مٹر جبل پور کی ایک مقبول سبزی اور اہم ربیع کی فصل ہے۔ یہ کافی غذائیت بخش بھی ہوتی ہے اور اس میں مناسب مقدار میں پروٹین، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں۔ ہری مٹر یا ’’گارڈن مٹر‘‘، چھوٹے اور گول بیج ہیں جو ’پیسم سٹائیوم‘ پودے سے پیدا ہونے والی پھلی سے آتے ہیں۔ یہ سینکڑوں سالوں سے انسانی خوراک کا حصہ رہے ہیں اور دنیا بھر میں کھائے جاتے ہیں۔ اس فصل کی مدت 60-40 دن ہے۔ ضلع میں سال 19-2018 میں ہری مٹر کی کل بوائی 31,360 ہیکٹر رقبے میں کی گئی تھی اور سال 19-2018 کی سالانہ پیداوار 52,500 ٹن ہے۔

گراڈو (ڈائیسکوریا الاٹا) مالوا خطے کی سب سے اہم اور نمایاں فصلوں میں سے ایک ہے۔ یہ رتالو (شکر قند کی ایک قسم) کی مختلف اقسام میں سے ایک ہے اور اس کی آزادانہ طور پر کھیتی کی جاتی ہے۔ مالوا میں گراڈو واحد ایسی فصل ہے جس کی باقاعدہ کھیتی کی جاتی ہے اور اسے کھایا جاتا ہے، گراڈو کی پیدائش کا مرکز تقریباً مالوا کا سطح مرتفع (پلیٹو) ہے اور ہندوستان کا دوسرا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ گراڈو کو ’پرینت رتالو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ گراڈو (جامنی رتالو) مالوا خطے کی ایک اہم فصل ہے، اسے سیزن میں مختلف روایتی اور جدید مٹھائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ہندوستان دنیا میں گڑ پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، یہ دنیا میں تقریباً 58 فیصد گڑ کی پیداوار میں حصہ ڈالتا ہے۔ گڑ کی صنعت مدھیہ پردیش میں بہت مقبول ہے، یہ ہندوستان میں تقریباً 6 فیصد گڑ کی پیداوار کا تعاون دیتی ہے۔ مدھیہ پردیش میں نرسنگھ پور ضلع گڑ بنانے کے لیے مشہور ہے۔ یہاں زیادہ تر کالی کپاس کی مٹی ہے جس میں مٹی کی مقدار 65-60 فیصد ہے اور پانی جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ ستمبر-اکتوبر میں بوئے گئے گنے کے ساتھ یہاں مخلوط کھیتی (سہ فصلی کھیتی) کی جاتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے کل گنے کے رقبے کا تقریباً 65 فیصد (تقریباً 75,000 ہیکٹر) نرسنگھ پور ضلع میں ہے۔ اسے مدھیہ پردیش کا ’چینی کا کٹورا‘ کہا جاتا ہے۔ اس ضلع میں 3000-2500 ٹی سی ڈی صلاحیت والی 10-09 چینی ملیں ہیں، لیکن وہ گنے کی ترقی کی سرگرمیاں نہیں کر رہی ہیں۔ ایسے میں کسان اب گڑ کی پیداوار کی انٹرپرینیورشپ (صنعت کاری) کو فروغ دینے کے لیے کافی پرجوش ہیں۔

سنگھاڑے کی کھیتی کے لیے سات مہینے کی سخت محنت درکار ہوتی ہے۔ پودے کو اپنی مکمل شکل میں تیار ہونے میں چار مہینے لگتے ہیں اور پھل آنے میں مزید تین مہینے لگتے ہیں۔ بوائی کا سیزن مئی-جون کے گرمی کے مہینوں میں شروع ہوتا ہے۔ کسان ایک چھوٹے جوہڑ یا چھوٹے تالاب میں بیج بوتے ہیں۔ ایک مہینے کے اندر، پودا ایک بیل میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے بعد میں بڑے تالاب میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ پھلوں کی توڑائی دسمبر-جنوری کے مہینے میں کی جاتی ہے۔ جبل پور، ستنا اور آس پاس کے اضلاع میں سنگھاڑے کی کھیتی کرنے والے تقریباً 4,500 کسان ہیں، جو مدھیہ پردیش میں سنگھاڑے کے اہم شراکت دار ہیں۔ تازہ سنگھاڑا اپنے اندر پانی کی وافر مقدار (80 فیصد)، اسٹارچ (52 فیصد)، پروٹین (1.87 فیصد) اور ٹی ایس ایس (8-7 فیصد) کے لیے جانا جاتا ہے۔

مدھیہ پردیش کا کٹی واڑہ اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے جانا جاتا ہے، حال ہی میں اس نے ایک اور انوکھے جذبے ’نورجہاں آم‘ کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی مقبولیت حاصل کی ہے۔ ان کا وزن 3.5-3 کلوگرام ہوتا ہے اور یہ ایک فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کے پروڈیوسروں کا ماننا ہے کہ یہ سینکڑوں سال پہلے افغانستان سے گجرات ہوتے ہوئے مدھیہ پردیش پہنچی تھی۔ اور اگرچہ اس پھل کے کئی پروڈیوسر ہیں، لیکن اس قسم کے سب سے مشہور آم ’نورجہاں مینگو فارمز‘ سے آتے ہیں، جس کی ملکیت اور انتظام سنبھالا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande