
نئی دہلی، 30 جون (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری نے ایک پروگرام میں کہا کہ سڑک پر تحفظ کی فراہمی حکومت کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے اور اس کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں سڑک حادثات میں سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں، جو ایک سنگین تشویش کا موضوع ہے۔
گڈکری نے منگل کے روز یہاں اوبر کے ایک پروگرام میں کہا کہ اب سڑک حادثے میں زخمی شخص کو اسپتال پہنچانے والے فرد کو پولیس یا قانونی پیچیدگیوں میں نہیں الجھنا پڑے گا۔ مدد کرنے والے شخص کو مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ سڑک حادثے میں زخمی کسی بھی شخص کا کسی بھی اسپتال میں علاج کرانے پر ڈیڑھ لاکھ روپے تک کا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال اوسطاً پانچ لاکھ سڑک حادثات ہوتے ہیں اور تقریباً 1.80 لاکھ افراد کی موت ہو جاتی ہے۔ ان حادثات سے ملک کی جی ڈی پی کو تقریباً تین فیصد کا نقصان ہوتا ہے۔ ان حادثات کے متاثرین میں 66 فیصد افراد 18 سے 34 سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔ سڑک حادثات نہ صرف جانیں لیتے ہیں بلکہ کئی لوگوں کو مستقل طور پر معذور بھی بنا دیتے ہیں۔
گڈکری نے کہا کہ سڑک سلامتی کے چار اہم حصے سڑک انجینئرنگ، گاڑیوں کی انجینئرنگ، نفاذ اور عوامی بیداری ہیں۔ ان میں سڑک انجینئرنگ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس کے تحت ملک بھر کی سڑکوں پر بلیک اسپاٹس اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ والے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان بلیک اسپاٹس کو بہتر بنانے کے لیے 50 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انڈر پاس اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بین الاقوامی معیار کا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑک پر تحفظ کے لیے گاڑیوں کے معیار اور تکنیکی اصولوں کو بھی سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ قوانین کے نفاذ کے تحت ٹریفک ضابطوں کی پابندی یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ وہیں عوامی بیداری کے لیے مسلسل مہمات چلائی جا رہی ہیں تاکہ لوگ سڑکوں پر ذمہ داری کے ساتھ برتاؤ کریں۔
گڈکری نے کہا کہ سڑک سلامتی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ سماج کے ہر طبقے کو اس میں تعاون کرنا ہوگا۔ بیداری اور ذمہ داری کے ذریعے ہی سڑک حادثات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد