
ممبئی، 30 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے ایودھیا کے رام مندر میں چندے، عطیات اور قیمتی زیورات کے مبینہ خرد برد کے معاملے پر مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
راج ٹھاکرے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ رام مندر کی چندہ پیٹی میں جمع ہونے والی رقم، عطیات اور زیورات کا مناسب حساب کتاب نہیں رکھا جا رہا اور ان میں خرد برد کے واضح خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے بھی اپنی ابتدائی رپورٹ میں بے ضابطگیوں کی تصدیق کی ہے اور بعض ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق خبر سامنے آنے کے بعد وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ معاملہ کس سمت میں بڑھتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی بھی وزیر اس بارے میں کچھ کیوں نہیں بول رہا۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ جو لوگ شری رام کے نام پر اقتدار میں آئے، کیا انہیں اس مبینہ خرد برد پر کوئی تشویش نہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا ایودھیا کے لوک سبھا حلقے میں 2024 کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد رام مندر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
راج ٹھاکرے نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کروڑوں ہندوؤں کے لیے خوشی کا باعث بنی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ رام جنم بھومی تحریک صرف ایک تنظیم یا بی جے پی کی تحریک نہیں تھی بلکہ اس میں شیو سینا کے کارکنوں سمیت مختلف تنظیموں اور لاکھوں کارسیوکوں نے حصہ لیا تھا، جن میں سے کئی نے اپنی جانیں بھی قربان کیں۔ ان کے مطابق اس تحریک کا مقصد مذہبی اور ثقافتی شناخت کا تحفظ تھا، نہ کہ کسی ایک جماعت کو اس کا سیاسی فائدہ پہنچانا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوئی، لیکن رام للا کی پران پرتشتھا کی تقریب میں وزیراعظم نے اکیلے پوجا کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مذہبی معاملات میں حکومت خصوصی کردار ادا کرتی ہے تو پھر مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں پر عوام کو جواب دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
راج ٹھاکرے نے کہا کہ رام مندر کروڑوں ہندوؤں، سادھو سنتوں اور کارسیوکوں کی عقیدت کی علامت ہے۔ عقیدت مند جب اپنی محنت کی کمائی، سونا یا زیورات بطور نذرانہ پیش کرتے ہیں تو اس کے ساتھ ان کے ایمان اور عقیدت کے جذبات وابستہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بھی اپنی ذاتی ملکیت کے زیورات عقیدت کے ساتھ مندر میں پیش کرتی ہیں، اس لیے اس رقم اور قیمتی اشیا کے استعمال میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ عوام کو اپنے دیوی دیوتاؤں پر عقیدہ ضرور رکھنا چاہیے، لیکن مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں یا مذہبی اداروں کے منتظمین کی اندھی عقیدت سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عقیدت مندوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عطیات اور چندے کے استعمال کے بارے میں جوابدہی کا مطالبہ کریں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے