ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ جیسے حفاظتی اقدامات زندگی بچانے کے سب سے آسان اور موثر ذرائع: جسٹس ابھے منوہر سپرے
ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ جیسے حفاظتی اقدامات زندگی بچانے کے سب سے آسان اور موثر ذرائع: جسٹس ابھے منوہر سپرے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ سڑک تحفظ کمیٹی کی میٹنگ میں سڑک تحفظ میں بھی اندور کو نمبر ون بنانے کا عزم اندور، 30 جون (ہ س)۔ سپریم کورٹ کی تشکیل
اندور میں منعقد سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ سڑک تحفظ کمیٹی کی میٹنگ


اندور میں منعقد سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ سڑک تحفظ کمیٹی کی میٹنگ


ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ جیسے حفاظتی اقدامات زندگی بچانے کے سب سے آسان اور موثر ذرائع: جسٹس ابھے منوہر سپرے

سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ سڑک تحفظ کمیٹی کی میٹنگ میں سڑک تحفظ میں بھی اندور کو نمبر ون بنانے کا عزم

اندور، 30 جون (ہ س)۔

سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ سڑک تحفظ کمیٹی کے چیئرمین اور سابق جج جسٹس ابھے منوہر سپرے نے کہا کہ ’’زندگی کا تحفظ سب سے اہم ہے۔ ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ جیسے حفاظتی اقدامات نہ صرف قوانین کی پاسداری ہیں، بلکہ زندگی بچانے کے سب سے آسان اور موثر ذرائع بھی ہیں۔‘‘

جسٹس سپرے منگل کو مدھیہ پردیش کے اندور ضلع میں سڑک حادثات میں کمی لانے اور جانی نقصان کو روکنے کے مقصد سے ضلع سڑک تحفظ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے میٹنگ میں ہیلمٹ کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک تحفظ کے سلسلے میں عوامی بیداری کی مہم کو عوامی تحریک بنایا جائے۔ میٹنگ میں کلکٹر ورما نے سڑک تحفظ کے مختلف پہلووں پر تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ جسٹس سپرے نے سڑک تحفظ کے تمام اہم نکات کا باریکی سے جائزہ لیا۔ اس میں بلیک اسپاٹس (خطرناک مقامات) پر کیے گئے اصلاحی کام، چالان کی کارروائی، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کی صورتِ حال، ہنگامی طبی نظام اور سڑک تحفظ کی تعلیم جیسے موضوعات شامل رہے۔

جسٹس سپرے نے کہا کہ ضلع میں بلیک اسپاٹس پر مسلسل اصلاحی کام کیے جا رہے ہیں اور کئی مقامات پر حادثات اور جانی نقصان میں نمایاں کمی آئی ہے۔ کچھ مقامات پر حادثات کو صفر تک لانے میں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چالان کی کارروائی بڑھنے کے باوجود عام لوگوں میں ہیلمٹ پہننے اور سیٹ بیلٹ لگانے کی عادت ابھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچی ہے۔ اس پر تمام محکموں، اداروں اور شہریوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

میٹنگ میں سرکاری محکموں کے ساتھ ساتھ نجی اسکولوں، کالجوں، سماجی تنظیموں، میڈیا نمائندوں اور عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ سبھی نے سڑک تحفظ بیداری مہم کو مزید موثر بنانے کا عزم کیا۔ جسٹس سپرے نے کہا کہ اندور نے صفائی کے شعبے میں ملک بھر میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ سڑک تحفظ میں بھی اندور ملک میں نمبر ون بنے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، انتظامی افسران، محکمۂ پولیس اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ سڑک تحفظ کو عوامی تحریک بنائیں اور ہر شہری کو ’’روڈ سیفٹی برانڈ ایمبیسیڈر‘‘ کے طور پر کام کرنے کی ترغیب دیں۔

میٹنگ میں روڈ انجینئرنگ کے حوالے سے بھی سنجیدگی سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سڑک تعمیر کرنے والی تمام ایجنسیوں کو معیارات کے مطابق کام کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ جسٹس سپرے نے ہدایت دی کہ سڑکوں کی دیکھ بھال اور مرمت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کل سے ہی سڑکوں کے گڑھوں کا سروے شروع کیا جائے اور سڑکوں کے گڑھوں کو بھرنے کا کام بھی کل سے ہی شروع کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں اس بات کا دھیان رکھا جائے کہ معیار ایسا ہو جس سے گڑھے نہ پڑیں اور ڈیزائن ایسا ہو کہ بلیک اسپاٹ بھی نہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ سڑک تحفظ صرف حکومت یا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صرف احکامات جاری کرنے سے تبدیلی نہیں آتی، بلکہ لوگوں کے درمیان جا کر انہیں سمجھانا، بیدار کرنا اور قوانین پر عمل کرنے کی ترغیب دینا ضروری ہے۔ آج سڑک تحفظ کا موضوع صرف قوانین پر عمل درآمد کا نہیں، بلکہ دوسروں کی جان بچانے کا موضوع ہے۔ اگر ہم ایک شخص کی زندگی بچاتے ہیں، تو وہ انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں، سماجی تنظیموں اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مل کر سڑک تحفظ کو عوامی تحریک بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا آج کا کام اپنے لیے نہیں، بلکہ معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے ہے۔ اگر ہم کسی کی جان بچاتے ہیں، تو یہ سب سے بڑا ثواب اور خدمت کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک حادثات کوئی تقدیر نہیں ہیں، بلکہ انہیں بیداری، حساسیت اور ذمہ داری سے روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دوسروں کی خدمت کرنا ہی سب سے بڑا دھرم ہے۔ جتنا ہم دوسروں کی مدد کریں گے، اتنا ہی خدا ہماری مدد کرے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ زندگی کا اصل مقصد صرف اپنے لیے جینا نہیں، بلکہ معاشرے اور انسانیت کے لیے کام کرنا ہے۔ سڑک پر کسی زخمی شخص کی مدد کرنے کے لیے کسی عہدے یا اختیار کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے حساس دل اور انسانی سوچ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا نے ہر انسان کے اندر دوسروں کی جان بچانے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔ جب ہم کسی کو مصیبت میں دیکھتے ہیں، تو فطری طور پر اسے بچانے کی خواہش بیدار ہوتی ہے۔ یہی انسانیت کی سب سے بڑی علامت ہے۔

جسٹس سپرے نے کہا کہ سڑک تحفظ صرف انتظامیہ، پولیس یا عدلیہ کا موضوع نہیں ہے، بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر تین منٹ میں ایک شخص سڑک حادثے میں اپنی جان گنوا دیتا ہے۔ یہ صورتِ حال انتہائی سنگین ہے اور اسے بدلنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں، اداروں اور عام شہریوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو بھی انتہائی اہم بتاتے ہوئے کہا کہ عوامی بیداری پھیلانے میں میڈیا ایک موثر ذریعہ ہے اور سڑک تحفظ مہم میں اس کی مستقل شراکت داری ضروری ہے۔

جسٹس سپرے کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں کلکٹر شیوم ورما، میونسپل کارپوریشن کمشنر شیتج سنگھل، ڈی سی پی ٹریفک راجیش ترپاٹھی، اندور ترقیاتی اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر پریکشت جھاڑے، ایڈیشنل کلکٹر نوجیون وجے پوار، اسمارٹ سٹی کے سی ای او ارتھ جین، ایڈیشنل کمشنر میونسپل کارپوریشن آکاش سنگھ سمیت دیگر افسران موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande