بھارت اور سیشلز کے درمیان زرعی تحقیق اور تعلیم میں تعاون کے لیے مفاہمت نامہ پر دستخط
نئی دہلی، 30 جون (ہ سا): وزیر اعظم نریندر مودی کے سرکاری دورۂ سیشلز کے دوران بھارت اور سیشلز نے زرعی شعبے میں اپنے دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دیتے ہوئے ایک اہم مفاہمت نامہ پر دستخط کیا۔ اس موقع پر بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل اور جمہوریہ سیشلز کی وزارتِ
بھارت اور سیشلز کے درمیان زرعی تحقیق اور تعلیم میں تعاون کے لیے مفاہمت نامہ پر دستخط


نئی دہلی، 30 جون (ہ سا): وزیر اعظم نریندر مودی کے سرکاری دورۂ سیشلز کے دوران بھارت اور سیشلز نے زرعی شعبے میں اپنے دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دیتے ہوئے ایک اہم مفاہمت نامہ پر دستخط کیا۔ اس موقع پر بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل اور جمہوریہ سیشلز کی وزارتِ ماہی پروری، زراعت اور بلیو اکانومی کے محکمۂ زراعت کے درمیان زرعی تحقیق، تعلیم اور اختراع کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت اور 2026 تا 2031 کے عملی منصوبے کا تبادلہ کیا گیا۔

اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان زرعی تحقیق، تعلیم، تربیت اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینا، وسعت دینا اور مزید مؤثر بنانا ہے۔ اس کے ذریعے زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ سائنس دانوں، محققین اور ماہرین کے درمیان تجربات اور تکنیکی معلومات کے تبادلے کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

2026 تا 2031 کے عملی منصوبے کے تحت دونوں ممالک زراعت سے متعلق مختلف شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ اس میں جدید زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور ترویج، کسانوں کی صلاحیت سازی، تربیتی پروگراموں کا انعقاد، تکنیکی مطالعات، سائنسی تعاون اور زرعی تعلیم کو مضبوط بنانے جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ یہ عملی منصوبہ دونوں ممالک کے زرعی اداروں کے درمیان طویل مدتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔

بھارت اور سیشلز کے درمیان یہ تعاون پائیدار زراعت، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں، قدرتی وسائل کے بہتر استعمال اور غذائی تحفظ کے فروغ کے حوالے سے بھی نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے زرعی شعبے میں اختراع کو فروغ ملے گا اور دونوں ممالک کے کسانوں اور زرعی سائنس دانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور بہترین طریقۂ کار سے فائدہ پہنچے گا۔

یہ معاہدہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی بھارت کی پالیسی کے مطابق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بحرِ ہند کے خطے میں بھارت اور سیشلز کے درمیان تزویراتی اور ترقیاتی تعاون کو مزید گہرا کرنے میں بھی یہ معاہدہ اہم کردار ادا کرے گا۔

اس موقع پر دونوں ممالک نے 2026 تا 2031 کے عملی منصوبے کے ذریعے پائیدار زراعت، زرعی اختراع اور غذائی تحفظ کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کیا۔ زرعی تحقیق اور تعلیم کے شعبے میں یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تعاون کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande