
نئی دہلی، 30 جون (ہ س): کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایودھیا میں کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کو روکے جانے کے بعد قصورواروں کو بچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شری رام مندر میں مبینہ نذرانہ چوری اور اراضی بے ضابطگیوں کے معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کرنے والے کانگریس رہنماؤں کو ایودھیا میں درشن اور حقائق جمع کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ رام مندر سے متعلق معاملے میں ملک جواب چاہتا ہے، لیکن قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اپوزیشن رہنماؤں کو روکا جا رہا ہے۔
جے رام رمیش نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا کہ شری رام مندر میں مبینہ چندہ چوری کے معاملے سے پورا ملک رنجیدہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوامی دباؤ کے بعد خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ آنے پر ایف آئی آر درج کی گئی، لیکن اتنا وقت گزر جانے کے باوجود بھی مرکزی ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں اور ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ بھگوان شری رام مندر کے درشن کے لیے جانے والے کانگریس رہنماؤں کو آمرانہ انداز میں نظر بند کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ ملک کے عوام اس معاملے میں قصورواروں کے خلاف فوری کارروائی چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رام مندر سے متعلق اس معاملے میں قصورواروں کو بچانے والے بھی یکساں طور پر ذمہ دار ہیں۔ عوام اس پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی توقع کر رہے ہیں۔
کانگریس کے اتر پردیش صدر اجے رائے نے بھی 'ایکس' پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کانگریس کا ایک وفد 30 جون کو ایودھیا میں بھگوان رام کے درشن اور پوجا کے لیے جانے والا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایودھیا پہنچتے ہی پولیس نے انہیں حراست میں لے کر گاڑی میں بٹھا دیا۔ ان کا سوال تھا کہ اگر سب کچھ شفاف ہے تو پھر رام بھکتوں کے ایودھیا آنے سے حکومت کو خوف کیوں محسوس ہو رہا ہے۔
اجے رائے کی قیادت میں رکن پارلیمنٹ تنوج پونیا، کشوری لال شرما، راکیش راٹھور، اجول رمن سنگھ، رکن اسمبلی وریندر چودھری سمیت کانگریس کے نو رکنی وفد کا ایودھیا جانے کا پروگرام تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد