
کولکاتا، 03 جون (ہ س)۔ مغربی بنگال حکومت نے بھارت-بنگلہ دیش بین الاقوامی سرحد پرحصار بندی کے کام کو تیز کرنے کے لیے بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کو 31.905 ایکڑ زمین منتقل کر دی ہے۔ یہ عمل کئی برسوں سے التوا کا شکار تھا۔
ریاستی پنچایت وزیر دیلیپ گھوش نے بدھ کے روز کابینہ اجلاس کے بعد اس کی معلومات فراہم کیں۔
دیلیپ گھوش نے بتایا کہ حکومت نے سرحد پر باڑ بندی اور مستقل سرحدی چوکیاں قائم کرنے کے لیے مختلف تجاویز کو منظوری دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پہلے کابینہ فیصلے کے مطابق بنگلہ دیش سرحد سے متصل ریاست کے نو مقامات پر مجموعی طور پر 31.905 ایکڑ زمین بارڈر سیکورٹی فورس کے حوالے کی گئی ہے۔
وزیر کے مطابق لینڈ اینڈ لینڈ ریفارمز ڈیپارٹمنٹ نے مالدہ، مرشدآباد اور کوچ بہار اضلاع میں تین مقامات پر مستقل سرحدی چوکیاں قائم کرنے کے لیے 1.53 ایکڑ زمین کی منتقلی کی تجویز کابینہ کے سامنے پیش کی تھی، جسے منظور کر لیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ شمالی دیناجپور ضلع میں سرحدی باڑ بندی کے کام کو آسان بنانے کے لیے 11 مقامات پر 12.72 ایکڑ زمین بارڈر سیکورٹی فورس کے حوالے کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر زمین کی منتقلی کا معاملہ طویل عرصے سے تنازع کا موضوع رہا ہے۔ اس معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے سابقہ ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری زمین بروقت فراہم نہیں کی گئی۔
دیلیپ گھوش نے مزید بتایا کہ کابینہ نے جلپائی گوڑی ضلع کے ناگرا کٹا علاقے میں موجود 20 ایکڑ سرکاری زمین محکمہ جنگلات کو منتقل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا۔ بعد ازاں یہ زمین سیوک-رنگپو ریلوے منصوبے کے لیے دستیاب کرائی جائے گی۔
ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں باڑ لگانے اور مستقل چوکیوں کی تعمیر سے سرحدی سسیکیورٹی مزید مضبوط ہوگی اور غیر قانونی دراندازی اور اسمگلنگ جیسی سرگرمیوں پر مؤثر کنٹرول ممکن ہو سکے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد