ترنمول کانگریس کے قائد حزب اختلاف کے معاملے میں نیا موڑ، رتبرتابندوپادھیائے کا 59 ایم ایل اے کی حمایت کا دعویٰ
کولکاتا، 3 جون (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کو لے کر جاری تنازعہ کے درمیان بدھ کو ایک اہم سیاسی پیشرفت ہوئی ہے۔ ترنمول کانگریس سے نکالے گئے ایم ایل اے رتبرتابندوپادھیائے 59 ایم ایل اے کی حمایت کے خطوط لے کر اسمبلی پہنچے۔ ان
حمایت


کولکاتا، 3 جون (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کو لے کر جاری تنازعہ کے درمیان بدھ کو ایک اہم سیاسی پیشرفت ہوئی ہے۔ ترنمول کانگریس سے نکالے گئے ایم ایل اے رتبرتابندوپادھیائے 59 ایم ایل اے کی حمایت کے خطوط لے کر اسمبلی پہنچے۔ ان کی آمد کے بعد ترنمول کانگریس کے دیگر ممبران اسمبلی بھی ایک ایک کر کے پہنچے۔ ان میں اروپ رائے، شیولی ساہا، اخو الزمان اور سبینہ یاسمین شامل ہیں۔

اسمبلی کے احاطے میں موجود سبینہ یاسمین نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کے انتخاب کے لیے ایم ایل اے آج میٹنگ کریں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ میٹنگ کس نے بلائی ہے تو اس نے جواب دیا کہ ہم سبھی نے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ترنمول کانگریس کے اندر دستخط کے مبینہ تنازعہ کو لے کر بے چینی بڑھ گئی ہے۔ اسمبلی اسپیکر رتیندر باسو نے ابھی تک کسی بھی ایم ایل اے کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر حتمی شکل نہیں دی ہے۔ اس پیش رفت نے سیاسی حلقوں میں ترنمول کانگریس کے اندر ممکنہ تقسیم اور اندرونی اختلافات کے بارے میں قیاس آرائیاں تیزکردی ہے۔

اسمبلی پہنچنے کے بعد رتبرتابندوپادھیائے نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اسمبلی میں کام کے لیے آیا ہوں، یہ سب محض قیاس آرائیاں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پہلے وہ صرف بات چیت کے لیے اسمبلی گئے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا 50 ایم ایل اے ان کے ساتھ ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے اور سندیپن ساہا کے علاوہ کسی اور کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔

منگل کو بی جے پی ایم ایل اے تاپس رائے نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے اور اینٹالی کے ایم ایل اے سندیپن ساہا کے علاوہ کسی بھی ایم ایل اے کی ذمہ داری نہیں لیں گے۔ اس نے مزید سیاسی بیان بازی کو جنم دیا۔ وہیں، رتبرتا نے بی جے پی ایم ایل اے کے پوسٹ پر کیے گئے دعووں کی تردید کی اور بدعنوانی کے لیے ترنمول کانگریس کی قیادت پر بھی تنقید کی۔

قابل ذکر ہے کہ پیر کو ترنمول کانگریس نے رتبرتابندوپادھیائے اور سندیپن ساہا کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ دونوں ایم ایل اے کا الزام ہے کہ 6 مئی کی میٹنگ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے سلسلے میں کوئی قرارداد منظور نہیں کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حاضری رجسٹر میں صرف دستخط لیے گئے تھے لیکن ان دستخطوں کو بعد میں مبینہ طور پر قرارداد کے طور پر استعمال کیا گیا۔

وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے اسمبلی میں دستخطی جعلسازی کے تنازعہ کے بارے میں پیر کو نبنا میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ترنمول کے ممبران اسمبلی رتبرتابندوپادھیائے اور سندیپن ساہا نے اسپیکر کو تحریری شکایت درج کرائی ہے۔ سیاسی توجہ اب اسمبلی کی کارروائی اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب اور دستخطی تنازعہ کے حوالے سے ترنمول کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande