ترقی یافتہ بھارت کا ہدف تبھی پورا ہوگا جب قبائلی برادری بھی ترقی کے دھارے سے جڑے گی : صدر جمہوریہ
نئی دہلی، 3 جون ( ہ س) : صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کے روز انٹیگریٹڈ ٹرائبل ڈیولپمنٹ ایجنسیز (آئی ٹی ڈی اے) اور انٹیگریٹڈ ٹرائبل ڈیولپمنٹ پروجیکٹس (آئی ٹی ڈی پی) کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وکست بھارت‘‘ کا خواب اسی وقت حقیقت بن س
ترقی یافتہ بھارت کا ہدف تبھی پورا ہوگا جب قبائلی برادری بھی ترقی کے دھارے سے جڑے گی : صدر جمہوریہ


نئی دہلی، 3 جون ( ہ س) : صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کے روز انٹیگریٹڈ ٹرائبل ڈیولپمنٹ ایجنسیز (آئی ٹی ڈی اے) اور انٹیگریٹڈ ٹرائبل ڈیولپمنٹ پروجیکٹس (آئی ٹی ڈی پی) کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وکست بھارت‘‘ کا خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب قبائلی برادری بھی ترقی کی مرکزی دھارے میں شامل ہو۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرہ ثقافتی اعتبار سے بے حد مالا مال ہے، لیکن اکثر حکومتی منصوبوں کی معلومات اور ان کے فوائد وقت پر ان تک نہیں پہنچ پاتے۔ قبائلی خاندان خودداری اور عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ فلاحی اسکیمیں بار بار ان کی دہلیز تک پہنچائی جائیں۔

اس موقع پر مرکزی وزیر برائے قبائلی امور جوائل اورام، وزیر مملکت درگا داس اوئیکے، وزارت کی سیکریٹری رنجنا چوپڑا اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ کانفرنس دراصل قبائلی تبدیلی کے علمبرداروں کا اجتماع ہے۔ اس میں شریک تمام افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ قبائلی برادری کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی پروگراموں کو ان کے گاؤں اور گھروں تک پہنچائیں۔ اس سے قبائلی بھائیوں اور بہنوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاستی اور منصوبہ جاتی سطح پر کام کرنے والے افراد ایک بڑے مقصد کے تحت باہمی مشاورت کریں گے تو بہت سے مفید حل سامنے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی آبادی کے گاؤں اور بستیاں عموماً دور دراز جنگلاتی اور پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں، لہٰذا ان علاقوں کو ترقی کی مرکزی دھارے سے جوڑنا متعلقہ حکام کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم جن یوجنا کے تحت 20 ہزار سے زائد قبائلی دیہات تک ترقیاتی پروگرام پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ خاص طور پر انتہائی پسماندہ قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جی) کو رہائش، زمین اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

صدر نے کہا کہ آئی ٹی ڈی اے اور آئی ٹی ڈی پی جیسے ادارے اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں تاکہ قبائلی برادری کی خصوصی ضروریات پر توجہ دے کر انہیں ترقی کی راہ پر آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر حاملہ خاتون کو مناسب غذائیت، ہر بچے کو تعلیم اور ہر نوجوان کو باعزت روزگار فراہم کرنا تمام متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی برادری روایتی علم اور مہارتوں کا ایک قیمتی خزانہ رکھتی ہے، جسے جدید ترقیاتی کوششوں کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ قبائلی معاشرے کے افراد بُنائی، دستکاری اور دیگر فنون میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔ اگر ان فنون کو ویلیو ایڈیشن اور مالی خودمختاری سے جوڑا جائے تو ان کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

صدر جمہوریہ نے مزید کہا کہ قبائلی برادری کو خود کفیل بنانے کے لیے مالی بااختیاری اور ہنر مندی کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ قبائلی نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ بدلتے ہوئے دور کے ساتھ ہم قدم رہ سکیں۔ انہوں نے وزارت کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ قبائلی معاشرے کے مسائل کو براہِ راست سنیں اور ان کے حل کے لیے مؤثر منصوبے تیار کریں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف منصوبے بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ کسی بھی اسکیم کا اصل مقصد اسی وقت پورا ہوگا جب اس کا فائدہ ہر قبائلی خاندان تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی سماج کی ترقی میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اس لیے قبائلی بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ناگزیر ہے تاکہ وہ مستقبل میں ملک اور معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے قبائلی علاقوں میں صحت کی معیاری سہولیات پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande