پونے کی وپرو کمپنی میں خاتون ملازمہ نے مذہبی ہراسانی کے الزامات عائد کیے ، اسلام قبول کرنے سے انکار پر ملازمت سے نکالے جانے کا دعویٰ
پونے، 3 جون (ہ س)۔ ناسک کی ٹی سی ایس کمپنی اور حال ہی میں ممبئی کی اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے متعلق سامنے آنے والے معاملات کے بعد اب پونے کے ہنجواڑی علاقے میں واقع ’’وپرو ٹیکنالوجیز لمیٹڈ‘‘ میں مبینہ طورمذہبی ہراسانی اور مبینہ امتیازی سلوک کا ایک س
CRIME MAHA WIPRO CORPORATE HARASSMENT


پونے، 3 جون (ہ س)۔ ناسک کی ٹی سی ایس کمپنی اور حال ہی میں ممبئی کی اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے متعلق سامنے آنے والے معاملات کے بعد اب پونے کے ہنجواڑی علاقے میں واقع ’’وپرو ٹیکنالوجیز لمیٹڈ‘‘ میں مبینہ طورمذہبی ہراسانی اور مبینہ امتیازی سلوک کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں ہنجواڑی پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر کو تحریری شکایت دی گئی ہے۔ متاثرہ ہندو خاتون ملازمہ نے ایک پریس کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے اپنے الزامات عوام کے سامنے رکھے۔

متاثرہ خاتون کے مطابق کمپنی میں ملازمت کے دوران ان پر اسلام قبول کرنے اور ایک مسلم شخص کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے مسلسل ذہنی دباؤ ڈالا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرزِ عمل کی مخالفت کرتے ہوئے جب انہوں نے کمپنی انتظامیہ سے شکایت کی تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں ہی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ اس معاملے پر ہندو جن جاگرتی سمیتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے اعلیٰ سطحی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بات تنظیم کے مہاراشٹر اور چھتیس گڑھ کے ریاستی منتظم سنیل گھنوٹ نے پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

پونے کے شرمک پترکار بھون میں منعقدہ اس پریس کانفرنس میں متاثرہ خاتون، ہندو جن جاگرتی سمیتی کے پونے ضلع رابطہ کار پراگ گوکھلے، راشٹر بھکت ایڈوکیٹ سمیتی کے ایڈوکیٹ وویک بھوسلے، ایڈوکیٹ گوپال تیلنگ اور رن راگنی شاخ کی کرانتی پیٹکر بھی موجود تھیں۔

متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ ان کی ساتھی ملازمہ شاہینہ رفیق نے ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرتے ہوئے انہیں ایک مسلم شخص ’’شیخ‘‘ کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور ہندو مذہب ترک کرکے اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ خاتون کے مطابق انہیں یہ بھی کہا گیا کہ اسلام قبول کرکے مسلم شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کی صورت میں انہیں دبئی میں آرام دہ اور خوشحال زندگی حاصل ہو سکتی ہے۔ مسلسل دباؤ اور ذہنی اذیت کے باعث انہوں نے مذکورہ ساتھی سے رابطہ محدود کرکے صرف دفتری امور تک محدود کر دیا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے کی باقاعدہ شکایت کمپنی کے سینئر حکام سے کی تھی، تاہم انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ بعد ازاں شاہینہ رفیق نے مبینہ طور پر ان کی گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے کمپنی کی اومبڈز کمیٹی کے سامنے ان کے خلاف شکایت درج کرا دی۔ متاثرہ خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض سینئر افسران اور ہیومن ریسورسز شعبے کے ذمہ داران نے ان کی شکایت اور شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ کارروائی کی۔

خاتون کے مطابق اگست 2025 کے اواخر میں ایک آن لائن میٹنگ کے دوران انہیں اپنی مرضی کے خلاف استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے وکیل ایڈوکیٹ وویک بھوسلے نے دعویٰ کیا کہ ملازمہ کی رضامندی کے بغیر اس طرح استعفیٰ لینا بھارتی لیبر قوانین اور قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

متاثرہ خاتون نے وکلاء کے ذریعے وپرو انتظامیہ کو قانونی نوٹس بھیجا ہے، جس میں جبراً حاصل کیا گیا استعفیٰ منسوخ کرنے، مکمل تنخواہ اور سروس تسلسل کے ساتھ دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے، ذہنی اذیت اور سماجی نقصان کے ازالے کے طور پر 50 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے، تحریری معافی مانگنے اور متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر 15 دن کے اندر مناسب اقدام نہ کیا گیا تو دیوانی، فوجداری اور لیبر عدالتوں میں مقدمات دائر کیے جائیں گے۔

اس موقع پر سنیل گھنوٹ نے کہا کہ تنظیم متاثرہ خاتون کو انصاف دلانے کے لیے میدان میں آ چکی ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے معاملات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر کسی خاتون پر مذہبی دباؤ یا ہراسانی ڈالی جا رہی ہو تو وہ بلا خوف و خطر متعلقہ تنظیم سے رابطہ کرے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande