
نئی دہلی، 03 جون (ہ س)۔ بھارت میں ماحولیات کے لئے موزوں توانائی کے شعبے سے سال 2030 تک 44 لاکھ سے زائد ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ان میں روف ٹاپ سولر اسکیم سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہوگا۔ یہ باتیں , کاؤنسل آن انرجی، انوائرمنٹ اینڈ واٹر اور نیچرل ریسورسز ڈیفنس کاؤنسل انڈیا کے ایک مطالعے میں سامنے آئی ہیں۔
یہ رپورٹ ’’ڈرائیونگ انرجی ٹرانزیشن: ورک فورس، اسکلز اینڈ جینڈر اِن انڈیاز رینیوایبل انرجی سیکٹر‘‘ وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی کی تکنیکی رہنمائی میں تیار کی گئی ہے۔ یہ 2024–25 کے دوران سولر، ونڈ، بایو انرجی اور ہائیڈرو پاور کے شعبوں سے وابستہ کمپنیوں کے درمیان کیے گئے ایک بنیادی سروے پر مبنی ہے۔ اس مطالعے میں مختلف صاف توانائی ٹیکنالوجیز اور کمرشلائزیشن کے مراحل میں افرادی قوت کی ضروریات کا اندازہ لگانے کے لیے ایک نیا فل ٹائم ایکویویلنٹ کوفی شینٹ تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آلات سازی، منصوبوں کی تنصیب اور آپریشن میں آنے والے براہِ راست روزگار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
بھارت اس وقت مجموعی نصب شدہ قابلِ تجدید توانائی صلاحیت کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ ملک نے مجموعی بجلی پیداوار کی صلاحیت کا 50 فیصد حصہ غیر فوسل ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے، یعنی 2025 میں ہی حاصل کر لیا ہے۔
وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی کے سیکریٹری سنتوش کمار سارنگی نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا: ’’کامیاب گرین ٹرانزیشن کے لیے عوام کی شمولیت ایک بنیادی عنصر ہے۔ لوگوں کو اس گرین تبدیلی کے مرکز میں رکھنے سے اس کے مثبت اور بالواسطہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ بھارت نے دکھا دیا ہے کہ ہماری معاشی ترقی کا راستہ اور پائیداری کے اہداف ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ پچھلے سال ہم نے تقریباً 51 گیگاواٹ سولر اور ونڈ انرجی کی صلاحیت حاصل کی ہے اور امید ہے کہ یہ رفتار آنے والے برسوں میں بھی جاری رہے گی اور مزید وسعت اختیار کرے گی۔‘‘
ارونبھا گھوش نے کہا کہ بھارت کا انرجی ٹرانزیشن دراصل ورک فورس ٹرانزیشن بھی ہونا چاہیے۔ یہ موقع روزگار پیدا کرنے، مہارتیں بڑھانے، ملکی سپلائی چینز کو مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کا ہے کہ صاف توانائی کی توسیع کے ساتھ اس کے فوائد خاندانوں، کسانوں، مزدوروں اور کاروباری افراد تک بھی پہنچیں۔
دیپا سنگھ نے کہا: ’’بھارت کی معاشی ترقی، توانائی کی سلامتی اور موسمیاتی اہداف کے لیے صاف توانائی سے متعلق روزگار انتہائی ضروری ہیں۔ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ غیر مرکزی قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر روف ٹاپ سولر، شہروں، چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں روزگار پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی، افرادی قوت کے قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور مضبوط صنعتی تربیتی شراکت داریوں کی ضرورت ہوگی تاکہ ورک فورس بھارت کے انرجی ٹرانزیشن کے اگلے مرحلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو سکے۔‘‘
اس مطالعے کے مطابق شمسی اور ہوا سے توانائی کے منصوبوں کی تنصیب اور آلات سازی کے شعبوں میں خواتین کی شمولیت صرف 11 فیصد ہے۔ روف ٹاپ سولر میں خواتین کی سب سے زیادہ شمولیت 15 فیصد ہے، اس کے بعد سولر ماڈیول مینوفیکچرنگ میں 13 فیصد، فلوٹنگ سولر میں 12 فیصد اور زمینی سولر منصوبوں میں 11 فیصد ہے۔
مطالعے کے مطابق صاف توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی 61 فیصد خواتین غیر تکنیکی شعبوں جیسے انسانی وسائل، اکاؤنٹنگ اور انتظامی امور میں کام کرتی ہیں۔
اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپریشن اینڈ مینٹیننس اور آلات سازی کے شعبوں میں تقریباً 13 لاکھ فل ٹائم ایکویویلنٹ ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں، جو منصوبوں یا مینوفیکچرنگ پلانٹس کی پوری عمر تک برقرار رہیں گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد