
نئی دہلی، 3 جون (ہ س):۔
مرکزی کابینہ نے دہلی-این سی آر میں پرانے ٹرکوں اور بسوں کو تبدیل کرنے کے لیے 9,585 کروڑ کی اسکیم کو منظوری دی ہے۔ یہ اسکیم پرانے ٹرکوں اور بسوں کو تبدیل کرنے کے لیے نیشنل کیپیٹل ریجن پلاننگ بورڈ (این سی آر پی بی) کی مدد کرے گی۔ اس اسکیم کا مقصد فضائی آلودگی کو کم کرنا اور صاف نقل و حمل کو فروغ دینا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس تجویز کو منظوری دی گئی۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے نیشنل میڈیا سینٹر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس اسکیم کو ہاو¿سنگ اور شہری ترقی کی وزارت کے تحت این سی آر پی بی کے ذریعہ فنڈ دیا جائے گا اور سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت اور پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے ذریعہ لاگو کیا جائے گا۔ دہلی، ہریانہ، راجستھان اور اتر پردیش کی ریاستی حکومتیں بھی شراکت دار ہوں گی۔
اس اسکیم کے تحت، مرکزی حکومت 5,041 کروڑ روپے فراہم کرے گی، اور ریاستیں تقریباً 1,601 کروڑ روپے ٹیکس میں رعایتیں فراہم کریں گی۔ اس اسکیم سے دہلی-این سی آر میں بی ایس-آئی وی یا پرانے معیارات کے ساتھ رجسٹرڈ ٹرک اور بس مالکان کو فائدہ پہنچے گا، جنہیں بی ایس-وی آئی یا الیکٹرک گاڑیوں میں اپ گریڈ کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔
دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔ آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی) اورٹی ای آر آئی کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر PM 2.5 کے اخراج میں 14 فیصد، کاربن مونو آکسائیڈ کے اخراج میں 40 فیصد، اور نائٹروجن آکسائیڈ کے اخراج میں 63 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ ٹرک اور بسیں کل بیڑے کا صرف 3 فیصد ہونے کے باوجود پی ایم 2.5 کے اخراج میں 36 فیصد حصہ ڈالتی ہیں۔
اس اسکیم سے تقریباً 2.07 لاکھ گاڑیوں کے مالکان (1.91 لاکھ ٹرک اور 16,329 بسیں) مستفید ہوں گے۔ بی ایس-آئی آئی آئی یا پرانی گاڑیوں کو رجسٹرڈ اسکریپنگ مراکز پر تلف کرنا لازمی ہوگا، جبکہ بی ایس-آئی وی گاڑیوں کو این سی آر سے باہر غیر این سی اے پی شہروں میں اسکریپ یا فروخت کیا جا سکتا ہے۔ دہلی میں ہلکے سامان کی گاڑیاں صرف الیکٹرک ہوں گی، جب کہ بسیں صرف بی ایس-وی آئی سی این جی یا الیکٹرک ہوں گی۔
اسکیم کے فوائد میں مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ سال تک کے قرضوں پر 5 فیصد سود سبسڈی، ماہانہ فیول واو¿چر (زیادہ سے زیادہ ?4,800)، الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر ایک بار کا فائدہ، اور ڈپازٹ ٹریڈنگ کا سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔ ریاستی حکومتیں رجسٹریشن فیس معاف کریں گی اور نئی گاڑیوں پر 100 فیصد تک موٹر وہیکل ٹیکس چھوٹ اور پرانی گاڑیوں پر 50 فیصد تک چھوٹ دیں گی۔ زیر التواء واجبات بھی معاف کر دیے جائیں گے۔
اس اسکیم کی نگرانی کابینہ سکریٹری کی سربراہی میں ایک بااختیار کمیٹی کرے گی جس میں نیتی آیوگ کے سی ای او، متعلقہ وزارتوں کے سکریٹریز، دہلی-این سی آر ریاستوں کے چیف سکریٹریز اور این سی آر پی بی کے ممبر سکریٹری شامل ہوں گے۔ ضلعی سطح پر، ڈپٹی کمشنر یا ضلع مجسٹریٹ اس اسکیم کو نافذ اور نگرانی کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ