
غازی آباد، 3 جون ( ہ س ) : اتر پردیش کے ضلع غازی آباد کے ڈاسنا علاقے میں انتظامیہ نے غیر قانونی قبضوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے ایک مدرسے کو منہدم کر دیا۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار ماندڑ نے اس کارروائی کی تفصیلات جاری کیں۔
یہ کارروائی ایک ہیکٹر سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی مدرسے کے خلاف کی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق اس قیمتی زمین پر مدرسہ تعمیر کرکے غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا تھا۔ تحصیلدار عدالت نے اس غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کے واضح احکامات جاری کیے تھے، جن پر عمل درآمد کرتے ہوئے آج صبح بڑے پیمانے پر انہدامی مہم چلائی گئی اور پوری عمارت کو مسمار کر دیا گیا۔
اس معاملے میں حکومت کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ ایک کروڑ 23 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ رقم غیر قانونی قبضہ کرنے والوں سے سختی کے ساتھ وصول کی جائے گی۔
ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ غازی آباد میں تقریباً 400 مدارس اور قبرستان سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے قائم کیے گئے ہیں۔ ان کی فہرست محکمہ اقلیتی بہبود نے تیار کی ہے۔ حال ہی میں امید پورٹل پر درج ایسی 330 وقف جائیدادوں کی فہرست بندی منسوخ کر دی گئی ہے۔ متعلقہ دعوے داروں کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے 5 جون تک کی مہلت دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد