
جے پور، 29 جون (ہ س): اب راجستھان کے شیخاواٹی علاقے کو ہریانہ سے جمنا کا پانی ملے گا۔ یہ پانی شیخاواٹی کے 3 اضلاع سیکر، چورو اور جھنجھنو کے دیہات اور شہروں تک پائپ لائن کے ذریعے پہنچایا جائے گا، جسے پینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تقریباً 32 سال سے زیر التوا یہ منصوبہ راجستھان کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ تمام رسمی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد اس منصوبے کے لیے زمین کے حصول کا کام شروع کیا جائے گا۔
راجستھان اور ہریانہ کے درمیان پیر کے روز نئی دہلی میں جمنا آبی معاہدے پر تاریخی دستخط کیے گئے۔ مرکزی وزیر داخلہ و امدادِ باہمی امت شاہ، مرکزی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل، راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کی موجودگی میں مرکزی وزارت جل شکتی، راجستھان حکومت اور ہریانہ حکومت کے درمیان مفاہمتی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
اس موقع پر راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے اور دہائیوں پر مشتمل انتظار ختم ہونے جا رہا ہے۔ شیخاواٹی کے 3 اضلاع تک جمنا کا پانی پہنچانے کے لیے یہ مفاہمتی معاہدہ ایک تاریخی قدم ہے۔ نرمدا منصوبہ، جل جیون مشن، کین-بیتوا لنک منصوبہ اور رام جل سیتو لنک جیسے منصوبوں کی طرح جمنا آبی منصوبہ بھی اسی دور اندیش سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کہا کہ ہریانہ اس منصوبے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
واضح رہے کہ شیخاواٹی کے 3 اضلاع تک جمنا کا پانی پہنچانے کے لیے سال 1994 میں راجستھان اور ہریانہ کے درمیان جمنا آبی معاہدہ ہو چکا تھا، لیکن یہ صرف کاغذوں تک محدود رہا اور باہمی اتفاق نہ ہونے کے باعث منصوبے پر کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ 17 فروری 2024 کو مرکز، راجستھان اور ہریانہ حکومتوں کے درمیان آبی معاہدے کے تحت سہ فریقی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے بعد تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ پر کام شروع ہوا۔ اب اس رپورٹ کی تیاری مکمل ہونے کے بعد مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد منصوبے پر عملی کام شروع کیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت ہریانہ سے پائپ لائن کے ذریعے پانی لایا جائے گا۔ اس پائپ لائن کا 95 فیصد حصہ ہریانہ میں ہوگا۔ محکمہ آبی وسائل اب زمین کے حصول کا عمل شروع کرے گا۔ زمین کے حصول کا کام راجستھان اور ہریانہ حکومتیں مشترکہ طور پر مکمل کریں گی۔ پائپ لائن کے لیے جن افراد کی زمین حاصل کی جائے گی، انہیں مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد