سپریم کورٹ کا ایودھیا رام مندر چندہ گھوٹالہ کیس میں جلد سماعت سے انکار
نئی دہلی، 29 جون (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے ایودھیا میں شری رام جنم بھومی مندر میں چندوں کی مبینہ چوری کی سی بی آئی کی قیادت والی ایس آئی ٹی سے جانچ کی مانگ کرنے والی ایک فوری درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ درخواست دو وکلاء اجے کمار رائے او
سپریم کورٹ نے ایودھیا رام مندر چندہ گھوٹالہ کیس میں جلد سماعت سے انکار کردیا


نئی دہلی، 29 جون (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے ایودھیا میں شری رام جنم بھومی مندر میں چندوں کی مبینہ چوری کی سی بی آئی کی قیادت والی ایس آئی ٹی سے جانچ کی مانگ کرنے والی ایک فوری درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

درخواست دو وکلاء اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے دائر کی تھی۔ عرضی میں مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کو مالی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے ایک طریقہ کار قائم کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے، کیونکہ لاکھوں عقیدت مندوں کے جذبات اس میں شامل ہیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ عطیہ کی چوری کی خبریں سچ ہیں یا غلط، ان رپورٹوں سے ایودھیا کی شان کے لیے لڑنے والوں کے ایمان کو ٹھیس پہنچی ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ اتر پردیش حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی نے ایف آئی آر درج کیے بغیر تحقیقات شروع کر دی ہے۔ درخواست میں ٹرسٹ سے متعلق مبینہ طور پر غائب فنڈز اور دیگر بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ تفتیش پیچیدہ مالی اور فوجداری مقدمات کی تفتیش کے لیے ضروری مہارت کے ساتھ تفتیشی ایجنسی کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ یوپی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی میں لکھنو¿ کے علاقائی کمشنر وجے وشواس پنت، انسپکٹر جنرل کرن ایس، اور محکمہ خزانہ کے خصوصی سکریٹری نیل رتن شامل ہیں۔

اس سے قبل ایک وکیل نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر معاملے پر از خود نوٹس لینے اور تحقیقات کرنے کی درخواست کی تھی۔ وکیل انوپ اوستھی نے سپریم کورٹ کو لکھا کہ یہ مسئلہ ملک کے کروڑوں لوگوں کے ایمان سے جڑا ہوا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت تحقیقات کی نگرانی کرے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ مندر 2020 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تشکیل پانے والے ٹرسٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اس کی پران پرتشٹھا کی تقریب 22 جنوری 2024 کو منعقد ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے بڑی تعداد میں عقیدت مند روزانہ مندر جاتے ہیں اور مندر کے چندہ خانے میں چندہ دیتے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ رام مندر کے لیے عطیہ کی رقم میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ غیر متناسب اثاثوں کا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں کچھ سابق ملازمین اور مشتبہ افراد شامل ہیں۔ اتر پردیش حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کا حکم دیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ اس معاملے میں صرف انتظامی انکوائری ناکافی ہے۔ خدشہ ہے کہ وقت کے ساتھ معاملہ دب جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande