ٹوئنکل پیپرز لمیٹڈ کا آئی پی او لانچ، پہلے دن صرف 8 فیصد سبسکرپشن
نئی دہلی،29 جون (ہ س)۔ کاروگیٹڈ باکس اور مولڈڈ پیکیجنگ مصنوعات تیار کرنے والا ادارہ ٹوینکل پیپرز لمیٹڈ کا 27.52 کروڑ روپے کا آئی پی او، آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ آئی پی او 1 جولائی تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص ایشو کے بند ہونے کے بعد 2
پیپر


نئی دہلی،29 جون (ہ س)۔ کاروگیٹڈ باکس اور مولڈڈ پیکیجنگ مصنوعات تیار کرنے والا ادارہ ٹوینکل پیپرز لمیٹڈ کا 27.52 کروڑ روپے کا آئی پی او، آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ آئی پی او 1 جولائی تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص ایشو کے بند ہونے کے بعد 2 جولائی کو الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 3 جولائی کو الاٹ کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں جمع کیے جائیں گے۔

کمپنی کے حصص بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 6 جولائی کو درج ہونے کا امکان ہے۔ آئی پی او کو پہلے دن صرف آٹھ فیصد سبسکرائب کیا گیا۔ آئی پی او کا پرائس بینڈ 2,000 حصص کے لاٹ سائز کے ساتھ 64سے69 روپے فی حصص طے کیا گیاہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کاروں کو دو لاٹس یعنی 4,000 حصص کے لیے بولی لگانی ہوگی، جس کے لیے انہیں 276,000 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 39.88 لاکھ نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔

آئی پی او کا صرف 4.76 فیصد اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص ہے۔ اس کے علاوہ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے 45.14 فیصد اور غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے 45.09 فیصد مختص ہے۔ اس کے علاوہ، 5.01 فیصد مارکیٹ بنانے والے کے لیے مخصوص ہے۔ نووس کیپیٹل ایڈوائزرز پرائیویٹ لمیٹڈ کو اس ایشو کا بک رننگ لیڈ مینیجر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ الانکیت اسائنمنٹس لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔ نرمان شیئر بروکرز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی مارکیٹ بنانے والی کمپنی ہے۔

ٹوئنکل پیپرز لمیٹڈ کی مالی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں کیے گئے دعوے کے مطابق، اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2022تا2023 میں کمپنی کا خالص منافع 90 لاکھ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 1.61 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر3.33 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال 2025تا0262 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کا خالص منافع 5.40 کروڑ تھا۔اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 22-23 میں، اس نے 54.96 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 23-24 میں بڑھ کر 58.75 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 24-25 میں بڑھ کر 83.98 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کو 73.13 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرض کا بوجھ بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 22-23 کے اختتام پر، کمپنی پر 29.62 کروڑروپے کا قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 33.88 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 40.19 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کا قرض کا بوجھ کم ہو کر 53.69 کروڑ روپے رہ گیا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022تا2023 میں یہ 9.46 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر 11.07 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 2024تا2025 میں کمپنی کی مجموعی مالیت کم ہو کر 19.54 روپے رہ گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، یہ 24.94 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کے ذخائر اور سرپلس میں اتار چڑھاو آیا۔ مالی سال 22-2023 میں یہ 8.52 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023سے2024 میں بڑھ کر 10.13 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، 2024سے2025 میں، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس کم ہو کر 8.37 کروڑ روپے رہ گئے۔ پچھلے مالی سال 2025سے2026 کے پہلے نو مہینوں میں، یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، یہ 13.77 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ، ٹیکسز،ڈپریشئیسنش اینڈ ایمارٹائزیشن) 2022تا2023 میں 5.47 کروڑ روپے رہی، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر 8.47 کروڑ روپے اور 2024تا2025 میں 9.63 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 یعنی اپریل سے 31 دسمبر 2025 کے پہلے نو مہینوں میں، یہ 10.75 روپے کی سطح پر تھا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande