نسراپور آبروریزی اور قتل کیس میں 60 دن میں تاریخی فیصلہ، ملزم کو سزائے موت
پونے، 29 جون (ہ س) ۔مہاراشٹر کے پونے ضلع کے بھور تعلقہ کے نسراپور علاقے میں ساڑھے تین سالہ بچی کے ساتھ آبروریزی اور قتل کے انتہائی حساس مقدمے میں خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت نے پیر کو 65 سالہ ملزم بھیم راؤ کامبلے کو موت تک پھانسی کی سزا سنائی۔ یکم مئی 2
Nasrapur Rape Murder Verdict


پونے، 29 جون (ہ س) ۔مہاراشٹر کے پونے ضلع کے بھور تعلقہ کے نسراپور علاقے میں ساڑھے تین سالہ بچی کے ساتھ آبروریزی اور قتل کے انتہائی حساس مقدمے میں خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت نے پیر کو 65 سالہ ملزم بھیم راؤ کامبلے کو موت تک پھانسی کی سزا سنائی۔ یکم مئی 2026 کو پیش آنے والے اس واقعے میں صرف 60 دن کے اندر سزا سنائے جانے کو مہاراشٹر کی عدالتی تاریخ کا ایک اہم اور تیز ترین فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔خصوصی جج ایس آر سالونکے نے چار روز قبل ملزم کو بھارتیہ نیائے سنہتا اور پوکسو ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت اغوا، جنسی زیادتی، آبروریزی اور قتل کا قصوروار قرار دیا تھا، جبکہ سزا کا فیصلہ محفوظ رکھا گیا تھا، جو پیر کو سنایا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس جرم کو نایاب ترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا جرم سزائے موت کا مستحق ہے اور ملک میں قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے جرم کے مطابق سخت سزا ضروری ہے۔استغاثہ کے مطابق ملزم نے یکم مئی کو بچی کو کھانے کی چیز دلانے کا جھانسہ دے کر گئو شالہ میں لے جا کر اس کے ساتھ آبروریزی کی اور بعد ازاں بے دردی سے قتل کر دیا۔ ملزم نے لاش کو گوبر کے ڈھیر میں چھپا دیا تھا۔ بچی کے لاپتہ ہونے پر اہل خانہ نے تلاش شروع کی، جس کے بعد اس کی لاش گئو شالہ سے برآمد ہوئی اور پورا علاقہ سوگ اور غم و غصے میں ڈوب گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری تحقیقات شروع کیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو بچی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا، جس کی بنیاد پر پولیس نے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر اسے گرفتار کر لیا۔تحقیقات کو تیز کرنے کے لیے پونے دیہی پولیس سپرنٹنڈنٹ سندیپ سنگھ گل نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ تحقیقاتی افسر وجئے مالا پوار سمیت چھ افسران نے سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈی این اے نمونے، طبی رپورٹس اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر تحقیقات مکمل کیں۔ پولیس نے صرف 16 دن میں تقریباً 1200 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں داخل کی، جس کے بعد خصوصی عدالت نے روزانہ اور اِن کیمرا سماعت شروع کی۔ مقدمے کے دوران متاثرہ بچی کے اہل خانہ، چشم دید گواہوں، تحقیقاتی افسران، طبی ماہرین اور دیگر افراد سمیت مجموعی طور پر 55 سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ عدالت میں سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈی این اے رپورٹ اور دیگر سائنسی شواہد بھی پیش کیے گئے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے بچی کی موت کے بعد بھی اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ عدالت کے مطابق متاثرہ بچی کے جسم پر 18 زخم پائے گئے، جو جرم کی انتہائی سفاکی کو ظاہر کرتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ایسے گھناؤنے جرم کے لیے سزائے موت بھی ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ فیصلے میں پولیس کی مؤثر اور باریک بینی سے کی گئی تفتیش اور خصوصی سرکاری وکیل اجے مصر کی دیانت دارانہ پیروی کو سراہا گیا۔ عدالت نے نربھیا کیس، شنکر کھاڈے کیس، بچن سنگھ بنام ریاست پنجاب، بشر علی کیس سمیت سزائے موت سے متعلق 12 اہم عدالتی فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ نے ناقابل تردید اور مضبوط شواہد پیش کیے، جن کے باعث ملزم کے لیے سزا سے بچنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ فیصلہ سناتے وقت عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کو قانونی طور پر اعلیٰ عدالت میں اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالت میں متاثرہ بچی کے اہل خانہ، شہریوں اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے موجود تھے، جبکہ عدالت کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے عدالت کے اطراف سخت پولیس بندوبست کیا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande