
پلامو، 29 جون (ہ س): جھارکھنڈ کے ضلع پلامو کے پڑوا بلاک کے سکّہ گاؤں میں ایک پراسرار بیماری سے ہونے والی اموات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ پیر کی علی الصبح رانچی کے راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (رمس) میں علاج کے دوران نکُل مہتو کی موت ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ 10 دنوں میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ خاندان کے دیگر افراد اب بھی رمس میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
مرنے والوں میں سب سے پہلے 19 جون کو کلدیپ مہتو کا انتقال ہوا تھا۔ اس کے بعد 20 جون کو ان کی بیٹی ببیتا کماری، 26 جون کو دوسری بیٹی اندو کماری، 28 جون کو بہو شویتا کماری اور 29 جون کو بیٹے نکُل مہتو کی موت ہو گئی۔ شویتا اور نکُل نے رمس میں علاج کے دوران دم توڑا، جبکہ کلدیپ مہتو کی اہلیہ لاکھو دیوی، ایک بیٹا اور ایک پوتا اب بھی اسپتال میں داخل ہیں۔
محکمۂ صحت کی ابتدائی تحقیقات میں کئی اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق، بیمار ہونے کے بعد خاندان نے طبی علاج کرانے کے بجائے طویل عرصے تک جھاڑ پھونک کا سہارا لیا۔ کلدیپ مہتو اور ان کی بیٹی کی موت کے بعد بھی خاندان علاج کے بجائے لیسلی گنج کے پورناڈیہ علاقے میں جھاڑ پھونک کرواتا رہا۔ تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خاندان کے افراد کافی عرصے سے کسی قسم کی راکھ استعمال کر رہے تھے۔
محکمۂ صحت کی ٹیم نے سکّا گاؤں اور پورناڈیہ پہنچ کر اس راکھ کے نمونے جمع کیے ہیں، جس کا خاندان استعمال کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی خاندان کی خوراک اور دیگر ممکنہ وجوہات کی بھی تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے۔
ضلع کے سول سرجن ڈاکٹر انیل کمار شریواستو نے بتایا کہ محکمۂ صحت نے خاندان کو علاج کے لیے 4 مرتبہ ریسکیو کیا تھا، لیکن وہ بار بار جھاڑ پھونک کا سہارا لیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ راکھ کے نمونے جمع کیے جا رہے ہیں اور پورے معاملے کی تفصیلی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔
پاٹن کے طبی افسر ڈاکٹر شروَن کمار نے بتایا کہ رمس میں 5ویں موت کے بعد تحقیقات مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کی ٹیم گاؤں پہنچ کر لوگوں کی خوراک، رہن سہن اور دیگر ممکنہ وجوہات کے بارے میں معلومات جمع کر رہی ہے۔
اس دوران میدنی رائے میڈیکل کالج اور اسپتال کے ڈاکٹر آر۔ کے۔ رنجن نے بتایا کہ مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم کے دوران اندرونی اعضا کے نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں، جنہیں پولیس فارنسک سائنس لیبارٹری کی جانچ کے لیے بھیجے گی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ معاملہ ڈراپسی بیماری سے بھی متعلق ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خاندان کی جانب سے استعمال کیے جا رہے سرسوں کے تیل کی جانچ کرانا ضروری ہے، کیونکہ آلودہ تیل بھی اس طرح کی علامات کا سبب بن سکتا ہے۔
فی الحال محکمۂ صحت، پولیس اور طبی ماہرین کی مشترکہ ٹیم اموات کی اصل وجہ معلوم کرنے میں مصروف ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ان اموات کے پیچھے بیماری، زہریلا مادہ، آلودہ غذائی اشیا یا کوئی اور سبب ذمہ دار ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد