
نئی دہلی، 29 جون (ہ س): کانگریس نے آپریشن سندور میں شہید ہونے والے 6 فوجیوں کے نام 13 ماہ بعد عوام کے سامنے لانے پر مرکزی حکومت اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سابق فوجی شعبے کے صدر کرنل (ریٹائرڈ) روہت چودھری نے الزام لگایا کہ وزیر دفاع نے پارلیمنٹ میں غلط معلومات فراہم کیں اور شہداء کو نظر انداز کیا۔
کرنل روہت چودھری نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ آپریشن سندور میں کسی بھی فوجی کا جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ بعد میں حکومت نے شہید فوجیوں کے نام جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے نام منظرعام پر آنے میں 13 ماہ کی تاخیر ہوئی، جو قومی سلامتی کے ساتھ سنگین لاپروائی کے مترادف ہے۔ انہوں نے وزیر دفاع کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کی تحریک بھی پیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور برسر اقتدار جماعت کے ارکان پارلیمنٹ کو اس معاملے پر معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آپریشن کے دوران فوج کو مکمل اختیارات نہیں دیے اور خارجہ پالیسی بھی کمزور رہی، جس کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں سے قرض حاصل ہوا اور دہشت گرد تنظیموں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری بھی اسی کے سپرد کر دی گئی۔ انہوں نے اگنی ویر اسکیم کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
مرکزی حکومت نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہونے والے 6 فوجیوں کے نام نیشنل وار میموریل کے ’’رول آف آنر‘‘ میں شامل کر دیے ہیں۔ اب یہ نام یادگار کی مرکزی دیوار ’’تیاگ چکر‘‘ پر مستقل طور پر درج رہیں گے۔ گزشتہ 26 جون کو نئی دہلی میں واقع اس یادگار کی دیوار پر ان 6 فوجیوں کے نام درج کیے گئے، جو 2025 میں آپریشن سندور کے دوران فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد