
حیدرآباد، 29 جون (ہ س)۔ ریاست میں دوسری سرکاری زبان ’اردو‘ کونفرت کی علامت کے طور پرپیش کرکے اردو پڑھانے والے ٹیچرکو نشانہ بنانے کی کوشش اور پرنسپل پرحملہ نے تلنگانہ اضلاع میں تیزی سے پھیلنے والی نفرت کو آشکار کردیا ہے۔ تلنگانہ میں اب اردو پڑھانے پر بھی اعتراض ہونے لگاہے اورخانگی اسکول میں جہاں طلبہ کی خواہش کے مطابق ’اردو‘ زبان کی تعلیم شروع کی گئی تھی اس اسکول کے پرنسپل عامر خان کو شدت پسند عناصر نے پولیس کی موجودگی میں حملہ کا نشانہ بناکر زدوکوب کیا ۔
ضلع نظام آباد آرمور کے اسکول بھارت چندراسکول میں اردو تعلیم کا انتظام کرنے والوں پراس حملہ نے سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک بھر میں ریاست کے حالات کو آشکارکردیا ہے۔ ’اردو ‘ زبان کومسلمانوں سے جوڑتے ہوئے یہ الزام عائد کیاجارہاہے کہ مسلمانوں کی زبان کو اکثریتی طبقہ کے بچوں کو پڑھایا جارہاہے۔اسکولی طلبہ کو اردو بطور مضمون پڑھانے پر اعتراض اور پرنسپل پر پولیس کی موجودگی میں حملہ کے ویڈیو نے بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر کہرام مچادیا ہے ۔
ملک کے مختلف حصوں میں اب تک گاؤ کشی ‘ تبدیلی ٔ مذہب سڑک پر نمازپڑھنے اور دعوت و تبلیغ کے الزامات پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اب اردو کی تعلیم دینے پر اساتذہ کو نشانہ بنانے کے بعد اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ فرقہ پرستی کا زہر معاشرہ میں کس حد تک سرائیت کرچکا ہے اور نفرت انگیز مہم چلانے والے عناصر ’زبان‘ میں بھی مذہب تلاش کرکے مسلمانوں کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔ آرمور واقعہ میں شدت پسند عناصر کی زدوکوب کا نشانہ بننے والے پرنسپل اسکول نے بتایاکہ ان کے اسکو ل میں ’اردو‘ زبان بطور مضمون شروع کرنے اولیائے طلبہ و سرپرستوں کے مطالبہ پر ہی انہوں نے اسکول کرسپانڈنٹ سے مشاورت کی تھی اور جب اسکول میں اردو کے مدرس کا تقرر کرکے تعلیم کا آغاز کیا گیا تو اندرون 3یوم انہیں حملہ کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ شدت پسند عناصر نے تو انہیں زدوکوب کیا لیکن سرکاری عملہ نے ان کی توہین و تضحیک کی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ انہوںنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تحصیلدار کے دفتر میں ہراساں و ذلیل کیاگیا اور انہیں فرش پر بٹھایا گیا جبکہ ان کے آفس میں غنڈہ عناصر نے انہیں پولیس کی موجودگی میں تشدد کا نشانہ بنایا ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق