
جموں, 28 جون (ہ س)ڈوڈہ سے رکن اسمبلی و عام آدمی پارٹی کے ریاستی صدر معراج ملک نے ضلع کشتواڑ میں پیش آئے مبینہ واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اپنے سوشل میڈیا بیان میں معراج ملک نے الزام عائد کیا کہ کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر نے محض اپنے قافلے کے دس منٹ تاخیر کا شکار ہونے پر پولیس کے ذریعے بھارتی فوج کے اہلکاروں پر ہتھیار تاننے کا حکم دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب اس افسر پر پبلک سیفٹی ایکٹ کون نافذ کرے گا؟اور یہ بھی کہا کہ حکومت، بالخصوص بی جے پی، اس معاملے پر خاموش کیوں ہے۔
معراج ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام روزانہ بیوروکریٹس کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرتے ہیں، لیکن جب ایک اعلیٰ افسر پر ایسے سنگین الزامات لگتے ہیں تو اس کے خلاف کارروائی نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق ایسے واقعات سے عوام کا نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے، جہاں اختیارات کو عوامی خدمت کے بجائے دباؤ اور دھونس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔بتا دیں کہ کشتواڑ کے اٹھولی میں فوج کے سی او سمیت چالیس جوانوں پر پولیس تھانے میں آکر اہلکاروں پر حملہ کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔یہ معاملہ فوج کے ایک جوان کی گاڑیوں کو اے آر ٹی او کی طرف سے چالان کرنے کے بعد شروع ہوا تھا ۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر