کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے بغیرعمارتیں، حادثات کا بڑھتا خطرہ
علی گڑھ،28 جون (ہ س)۔ لکھنؤ کے حالیہ آتشزدگی کے سانحے کے بعد ریاست بھر میں عمارتوں کے حفاظتی انتظامات کی جانچ تیزکردی گئی ہے، مگر علی گڑھ میں بڑی تعداد میں رہائشی، تجارتی اور کثیر منزلہ عمارتیں اب بھی کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر استعمال ہو رہی ہیں،
کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے بغیرعمارتیں، حادثات کا بڑھتا خطرہ


علی گڑھ،28 جون (ہ س)۔

لکھنؤ کے حالیہ آتشزدگی کے سانحے کے بعد ریاست بھر میں عمارتوں کے حفاظتی انتظامات کی جانچ تیزکردی گئی ہے، مگر علی گڑھ میں بڑی تعداد میں رہائشی، تجارتی اور کثیر منزلہ عمارتیں اب بھی کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر استعمال ہو رہی ہیں، جس سے کسی بھی بڑے حادثے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق 500 مربع میٹر یا اس سے زیادہ رقبے والی عمارتوں کے لیے تعمیر مکمل ہونے کے بعد کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہے، لیکن بیشتر عمارت مالکان اس سے گریز کرتے ہیں کیونکہ کئی عمارتیں منظور شدہ نقشے کے مطابق تعمیر نہیں کی گئیں۔ متعدد مقامات پر اضافی منزلیں، سیٹ بیک کی خلاف ورزیاں اور پارکنگ کی جگہ پر غیر قانونی تعمیرات بھی سامنے آئی ہیں۔

ریٹائرڈ انجینئر رام ویر سنگھ کے مطابق کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے قبل عمارت کی ساخت، فائر سیفٹی، برقی تحفظ اور دیگر حفاظتی معیار کی جانچ کی جاتی ہے۔ اسی لیے بے ضابطگیوں والی عمارتوں کے مالکان درخواست دینے سے بچتے ہیں۔ قوانین کے مطابق 15 میٹر سے زائد اونچی اور 500 مربع میٹر سے بڑی عمارتوں کے لیے فائر این او سی اور دیگر متعلقہ منظوری لازمی ہے، لیکن شہر کی بیشتر عمارتوں کے پاس یہ دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

اسسٹنٹ سٹی پلانر پریتی ساگر نے کہا کہ کمپلیشن سرٹیفکیٹ حفاظتی نقطۂ نظر سے انتہائی ضروری ہے۔ عمارت مالکان کو اس کے لیے درخواست دینی چاہیے، جبکہ اے ڈی اے جلد ہی اس حوالے سے بیداری مہم بھی شروع کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے تو مستقبل میں بڑے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande