ہائی کورٹ کےتبصرہ کے بعد علی گڑھ کی 852 گرام پنچایتوں کے منتظمین میں بے چینی، پنچایت انتخابات پر نظریں مرکوز
علی گڑھ, 28 جون (ہ س) گرام پردھانوں کو پنچایتوں کا منتظم مقرر کرنے کے اتر پردیش حکومت کے فیصلے پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سخت ریمارکس کے بعد ضلع علی گڑھ کی 852 گرام پنچایتوں میں سیاسی اور انتظامی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ عدالت کی جانب سے پنچایت انتخا
ہائی کورٹ کےتبصرہ کے بعد علی گڑھ کی 852 گرام پنچایتوں کے منتظمین میں بے چینی، پنچایت انتخابات پر نظریں مرکوز


علی گڑھ, 28 جون (ہ س) گرام پردھانوں کو پنچایتوں کا منتظم مقرر کرنے کے اتر پردیش حکومت کے فیصلے پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سخت ریمارکس کے بعد ضلع علی گڑھ کی 852 گرام پنچایتوں میں سیاسی اور انتظامی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ عدالت کی جانب سے پنچایت انتخابات میں تاخیر پر اظہارِ برہمی کے بعد موجودہ منتظمین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ضلع میں 12 ترقیاتی بلاکس کے تحت 852 گرام پنچایتیں ہیں۔ پنچایتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے موجودہ گرام پردھانوں کو بطور منتظم ذمہ داریاں سونپی تھیں، جس سے ان کے انتظامی اختیارات برقرار رہے۔ تاہم ہائی کورٹ کے حالیہ ریمارکس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر حکومت کو جلد انتخابات کرانے یا موجودہ انتظام میں تبدیلی کرنا پڑی تو منتظمین کی ذمہ داریاں بھی ختم ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب سیاسی جماعتوں نے ممکنہ پنچایت انتخابات کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ووٹر لسٹ کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور اب سب کی نظریں حکومت کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔

سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 243-E کے تحت پنچایتوں کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں بڑھائی جا سکتی۔ عدالت نے حکومت سے یہ بھی دریافت کیا کہ پسماندہ طبقات سے متعلق کمیشن کی رپورٹ اب تک کیوں پیش نہیں کی گئی اور پنچایت انتخابات کب تک کرائے جائیں گے۔ عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے اگلی سماعت 13 جولائی مقرر کی ہے۔

ضلع پنچایت راج افسر یتیندر کمار کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جو بھی ہدایات موصول ہوں گی، ان پر عمل درآمد کیا جائے گا، جبکہ انتخابی پروگرام کا حتمی فیصلہ ریاستی حکومت ہی کرے گی۔

آل انڈیا پنچایت پریشد کے ریاستی نائب صدر ارجن سنگھ بھولو نے کہا کہ عدالت نے فی الحال صرف انتخابات میں تاخیر پر حکومت سے جواب طلب کیا ہے، موجودہ گرام پردھان بدستور منتظم کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، اور ان کی تنظیم پردھانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔

گرام پردھان دھرو یادو (سکندرپور) نے کہا کہ گرام پردھان عوام کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے اور وہ اس وقت بھی منتظم کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ اور حکومت جو بھی فیصلہ کریں گی، اس کا احترام کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande