فائر ہائیڈرنٹ سسٹم کی عدم تکمیل سے تالا نگری صنعتی علاقہ آتشزدگی کے خطرے سے دوچار
علی گڑھ, 28 جون (ہ س)۔ علی گڑھ شہر کے صنعتی علاقوں میں آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث صنعت کاروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر تالا نگری صنعتی علاقہ میں فائر ہائیڈرنٹ لائن بچھائے جانے کے باوجود آج تک فائر سیفٹی پوائنٹس قائم
فائر ہائیڈرنٹ سسٹم کی عدم تکمیل سے تالا نگری صنعتی علاقہ آتشزدگی کے خطرے سے دوچار


علی گڑھ, 28 جون (ہ س)۔

علی گڑھ شہر کے صنعتی علاقوں میں آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث صنعت کاروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر تالا نگری صنعتی علاقہ میں فائر ہائیڈرنٹ لائن بچھائے جانے کے باوجود آج تک فائر سیفٹی پوائنٹس قائم نہیں کیے جا سکے، جس سے کسی بھی بڑے آتشزدگی کے واقعے کی صورت میں بھاری نقصان کا خدشہ برقرار ہے۔علی گڑھ میں تین بڑے صنعتی علاقے قائم ہیں، جن میں 1962 میں قائم ہونے والا انڈسٹریز اسٹیٹ، 1991 میں قائم کیا گیا تالا نگری صنعتی علاقہ اور 2008 میں وجود میں آنے والا CDF صنعتی علاقہ شامل ہیں۔ ان تمام علاقوں میں فیکٹریوں کے باہر جدید فائر فائٹنگ سہولیات کا فقدان بتایا جا رہا ہے۔

تالا نگری صنعتی علاقے کی دیکھ بھال یو پی ایس آئی ڈی اے کے ذمہ ہے۔ یہاں دو تجارتی سیکٹروں میں تقریباً 1,400 پلاٹ الاٹ کیے جا چکے ہیں، جن میں سے قریب 800 فیکٹریاں فعال ہیں۔ ان میں تالا سازی، ہارڈویئر، آرٹ ویئر، کارٹن، سریا، فرنس، ادویہ سازی، انجینئرنگ پرزہ جات اور دیگر صنعتیں کام کر رہی ہیں، جبکہ کئی بڑی کمپنیوں کے گودام بھی اسی علاقے میں قائم ہیں۔

صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ صنعتی علاقہ قائم کرتے وقت فائر ہائیڈرنٹ لائن، اوورہیڈ واٹر ٹینک اور ٹیوب ویل نصب کیے گئے تھے، مگر آج تک فیکٹریوں کے قریب فائر ہائیڈرنٹ پوائنٹس فعال نہیں کیے گئے۔ واٹر ٹینک بھی برسوں سے استعمال میں نہیں آئے اور ان سے ایک قطرہ پانی بھی فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ زیر زمین بچھائی گئی کئی پائپ لائنیں بھی خستہ حال ہو چکی ہیں۔

صنعت کاروں نے متعدد بار ادیوگ بندھو کی میٹنگوں میں یہ مسئلہ اٹھایا ہے، جبکہ تالا نگری انڈسٹریل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کا وفد لکھنؤ جا کر وزیر اعلیٰ کو بھی عرضداشت پیش کر چکا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صنعتی علاقے میں فوری طور پر فائر ہائیڈرنٹ سسٹم کو مکمل طور پر فعال کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے حادثے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande