
بھوجپور/پٹنہ، 27 جون (ہ س)۔ بہار کے بھوجپور ضلع میں بدنام زمانہ بھرت بھوشن تیواری انکاؤنٹر معاملے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھرت بھوشن تیواری کو پانچ گولیاں لگنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور حکومت نے واضح کیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر قصور واروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بھرت بھوشن تیواری کو کل پانچ گولیاں لگیں۔ پہلی گولی بائیں ران کے اوپری حصے میں، دوسری بائیں ران کے اندرونی درمیانی حصے میں، تیسری دائیں ران کے اندرونی درمیانی حصے میں، چوتھی دائیں ران کے بیرونی حصے کے اندرونی حصے میںاور پانچویں بائیں پیر کے پچھلے حصے کے درمیانی حصے میں لگی۔
رپورٹ کے نتائج ابتدائی طبی معائنے سے بھی مماثل ہیں، جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بھرت بھوشن تیواری کو شدید زخمی حالت میں آرہ صدر اسپتال لایا گیا تھا۔ اس وقت اسپتال کے سرجن ڈاکٹر ایم ایچ انصاری نے بتایا کہ ان کے پیر اور پیٹ کے نچلے حصے میں چار سے پانچ گولیاں لگیں۔اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جنتا دل (یونائیٹڈ) کے قومی ایگزیکٹو صدر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے جھا نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ایک ریٹائرڈ جج کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حکومت تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ضروری کارروائی کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ بھرت بھوشن تیواری 17 جون کو بھوجپور ضلع کے بلوتی گاؤں میں پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔اس واقعے کے بعد اہل خانہ نے الزام لگایا کہ بھرت نے ہتھیار پھینک کر خودسپردگی کی تھی، لیکن پولیس نے اسے گولی مار دی۔ اس الزام نے تنازعہ کو جنم دیا اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) اور تھانہ انچارج سمیت پانچ پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ فی الحال معاملے کی تفتیش جاری ہے اور تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ہی پورے واقعے کی اصل تصویر واضح ہوسکے گی۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan