
واشنگٹن،26جون(ہ س)۔ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کانگریس کو با ضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ ترکیہ کو 70 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے درجنوں لڑاکا طیاروں کے انجن فروخت کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات خبر کے ایک سرکاری نوٹس کے مطابق ہے جس کی نقل روئٹرز نے نیوز ایجنسی نے دیکھی۔روئٹرز نے سب سے پہلے بدھ کو خبر دی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ کچھ قانون سازوں کے اعتراضات کے باوجود اس فروخت کو آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مذکورہ قانون سازوں کا موقف ہے کہ ترکیہ کے پاس 2019 میں حاصل کردہ روسی میزائل دفاعی نظام موجود ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے 24 جون کو کانگریس کو بھیجے گئے اپنے نوٹس میں کہا کہ امریکی حکومت سیاسی، عسکری، اقتصادی، انسانی حقوق اور اسلحہ کنٹرول کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پرزوں کی برآمدی اجازت نامہ دینے کے لیے تیار ہے۔یہ اقدام ترکیہ میں اگلے ماہ ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل انقرہ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جنہیں ٹرمپ ایک اہم اتحادی سمجھتے ہیں۔کانگریس کے پاس اس معاہدے کو روکنے کے لیے مشترکہ قرارداد پیش کرنے کے لیے 15 دن کا وقت ہے۔ اس کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی منظوری ضروری ہے، تاہم ٹرمپ اس کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کر سکتے ہیں۔دو ذرائع جن میں ایک امریکی اہل کار بھی شامل ہے، نے بتایا کہ نیویارک کے نمائندے گریگوری مِیکس نے انتظامیہ کے ساتھ غیر رسمی جائزے کے دوران اپنے اعتراضات کا اظہار کیا اور معاہدے پر اپنی رضامندی نہیں دی۔ مِیکس ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں سب سے سینئر ڈیموکریٹ رکن ہیں اور وہ اس معاہدے کے سخت ناقدین میں شامل ہیں۔بدھ کو جاری ایک بیان میں مِیکس نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس معاہدے کے دو طرفہ تعلقات پر اثرات اور ترکیہ کے پاس ایس-400 نظام کی موجودگی سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ مِیکس نے مزید کہا کہ یہ پرزے برسوں تک فراہم نہیں کیے جائیں گے اور انتظامیہ نے امریکی پالیسی کے اہم پہلوو¿ں پر وضاحت کے مطالبات کو بارہا نظر انداز کیا ہے۔یہ انجن جنرل الیکٹرک کی جانب سے تیار کیے گئے ہیں اور انہیں ترکیہ کے پہلے مقامی لڑاکا طیارے 'قآن' میں استعمال کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ 2016 میں دفاعی شعبے میں انقرہ کی خود انحصاری بڑھانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔مغرب کے ساتھ ماضی کے غیر مستحکم تعلقات اور اسلحہ کی کچھ پابندیوں کے باعث ترکیہ نے اپنا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ 'قآن' تیار کیا۔ تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اسے ان امریکی ساختہ ایف-16 طیاروں کی جگہ لینے میں برسوں لگیں گے جو ترکیہ کی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ترکیہ کی جانب سے 2019 میں روسی فضائی دفاعی نظام کے حصول نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کی اور کانگریس میں انقرہ کی حمایت کو کمزور کر دیا۔ واشنگٹن نے پابندیاں عائد کر کے ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے نکال دیا تھا۔کانگریس نے ایک قانون منظور کیا ہے جو اس وقت تک ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فروخت پر پابندی لگاتا ہے جب تک اس کے پاس ایس-400 نظام موجود ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ روسی نظام امریکی ساختہ لڑاکا طیاروں کے لیے سکیورٹی خطرہ ہے۔ متعدد ڈیموکریٹ قانون سازوں نے جمعرات کو انجنوں کی فروخت پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا اور انتظامیہ کو خبردار کیا کہ جب تک انقرہ کے پاس ایس-400 موجود ہے، اسے کوئی بھی ایف-35 طیارہ فروخت نہ کیا جائے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan