
حیدرآباد، 26 جون (ہ س) -جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کے تحفظ کیلئے طلبائے جامعہ نظامیہ و فرزندان جامعہ کمربستہ ہوچکے ہیں اور وہ اب ’’رائے درگ‘‘ کی انتہائی قیمتی موقوفہ اراضی کے تحفظ کے لئے تلنگانہ وقف بورڈ وزیر اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ کے علاوہ ریاستی وزیر مال اورحکومت کے اہم ذمہ داروں بالخصوص وزیر اعلی اے ریونت ریڈی سے بھی نمائندگی کرنے کے علاوہ ضرورت پڑنے پر احتجاج بھی کریں گے۔
تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن لمیٹڈ کے ذریعہ فروخت کی جانے والی جامعہ نظامیہ کی جائیداد کو ہراج کئے جانے کے معاملہ کے اخبار سیاست اور دیگرمیڈیا میں انکشاف اور مسلسل خبروں کی اشاعت کے بعد آج طلبائے جامعہ و فرزندان جامعہ نظامیہ کی بڑی تعداد نے امیر جامعہ مفکر اسلام حضرت مفتی خلیل احمد اور دیگر ذمہ داران سے جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ 1لاکھ 25 ہزارکروڑ مالیت کی اس اراضی کے سلسلہ میں استفسار کیا۔امیر جامعہ مفتی خلیل احمد نےجامعہ کی جانب سے اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں کی جانے والی کاوشوں سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اراضی کے حصول اور تحفظ کے سلسلہ میں جامعہ نظامیہ کئی دہائیوں سے کوشاں ہے اورقانونی چارہ جوئی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اخراجات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ جامعہ نظامیہ کے پاس اتنا سرمایہ و مالیہ نہیں ہے کہ اس جائیداد کے تحفظ کےلئے قانونی چارہ جوئی کی جائے لیکن اس کے باوجودجامعہ نظامیہ اپنے طور پر اس اراضی کے تحفظ کے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ’رائے درگ ‘اراضی کے تحفظ وحصول کے سلسلہ میں منعقدہ اس اجلاس میں شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ ڈاکٹر محمد سیف اللہ‘ صدر مفتی جامعہ نظامیہ و نائب شیخ الجامعہ مولانا مفتی ضیاء الدین نقشبندی، مولانا سید شاہ نعمت اللہ قادری موجود تھے ۔مولانا سلطان احمد‘محمد عبدالرؤف نقشبندی‘ محمد محسن پاشاہ قادری کے علاوہ دیگرکئی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
ذرائع کے مطابق امیرجامعہ نے 1990 کی دہائی سے جاری کوششوں کے متعلق واقف کرواتے ہوئے کہاکہ اس سلسلہ میں جامعہ نظامیہ اپنے طور پر قانونی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے اور معاملہ کے حل کے لئے سپریم کورٹ تک جدوجہد کی گئی تھی لیکن سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت کے دعویٰ کے لئے متعلقہ فورم یعنی’’وقف ٹریبونل میں دعویٰ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مولانا مفتی خلیل احمد کے جامعہ نظامیہ کی امارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ’’رائے درگ‘‘ میں موجود جامعہ کی موقوفہ اراضی کے معاملہ میں جامعہ کی مجلس انتظامی کا خصوصی اجلاس ڈاکٹر سید جہانگیر کی تجویز پر طلب کیا گیاتھااوراس اجلاس میں انتظامی کمیٹی نے کئی اہم اور سخت فیصلے کئے تھے جو کہ اجلاس کی روداد میں درج ہیں لیکنانہیں منظر عام پر نہیں لایا گیا۔مولانا مفتی خلیل احمد نے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ جامعہ اپنے غیر مستحکم سرمایہ کے باوجود اس مقدمہ میں جدوجہد کر رہا ہے اور جس وقت تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے مذکورہ جائیداد کے ہراج کے لئے اعلامیہ جاری کیا اس کے فوری بعد جامعہ نظامیہ نے مختلف اخبارات میں اشتہارات شائع کروانے کے علاوہ متعلقہ محکمہ جات کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس جائیداد پر اپنے دعوے کو پیش کیا تھا۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے جامعہ کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آیا ذمہ داران جامعہ یا ارباب جامعہ کسی سیاسی یا سرکاری دباؤ کا شکار تو نہیں ہیں !اس سوال پر امیر جامعہ حضرت مفتی خلیل احمد نے کہا کہ اس معاملہ میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے اور نہ ہی جامعہ نظامیہ کسی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں قانونی ماہرین سے مشاورت کرتے ہوئے ان کی رائے کے مطابق اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکاء نے امیر جامعہ و شیخ الجامعہ کو اس بات کی یقین دہانی کی کہ وہ تمام امیر جامعہ و شیخ الجامعہ کی ہدایات کے مطابق ملاقات و احتجاج کے لئے بھی تیار ہیں۔
اجلاس میں موجود شرکاء نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کی اس لاکھوں کروڑ کی اراضی کے تحفظ کے لئے وہ ارباب جامعہ کی ہدایات اور احکام کے منتظر ہیں تاکہ اپنے مادرعلمی و سرکار رسالت مآب ﷺ کی نشاندہی پر قائم کی گئی اس جامعہ کے اثاثہ جات کے تحفظ میں عملی خدمات انجام دے سکیں۔1997 میں کمشنر اربن لینڈ سیلنگ کو جامعہ نظامیہ کے سیکریٹری کی جانب سے روانہ کئے گئے مکتوب کی نقل جامعہ کے دعوے اور کوششوں کا ثبوت ہے جو کہ کئی برسوں سے کی جارہی تھی اور اب بھی یہ کوشش جاری ہے لیکن ان کوششوں کو سیاسی یا سرکاری مدد حاصل نہ ہونے کے نتیجہ میں صورتحال انتہائی ناگفتہ ہوتی جا رہی ہے اور شہریوں میں شبہات پیدا ہونے لگے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق