
سیول، 26 جون (ہ س) ۔
جنوبی کوریا کے سابق صدر کی اہلیہ کِم کیون ہی کو جمعہ کو سرکاری تقرریوں اور دیگر کاموں کے عوض مہنگے تحائف لینے کے جرم میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔
جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق، سیول کی سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے اسے رشوت ستانی کے قانون کے تحت قصوروار پایا۔کم سابق معزول صدر یون سک یول کی اہلیہ ہیں۔ کیس کی تفتیش کرنے والے خصوصی وکیل من جونگ کی کی ٹیم نے عدالت سے اسے ساڑھے سات سال قید کی سزا سنانے کی درخواست کی تھی۔
استغاثہ کے مطابق، کم نے مارچ اور مئی 2022 کے درمیان ایک تعمیراتی کمپنی کے چیئرمین سے 100 ملین ون (تقریباً 61.36 لاکھ روپے) کے مہنگے تحائف قبول کیے تھے۔ ان میں ایک مہنگا وین کلیف اینڈ آرپیلز ہار بھی شامل تھا۔ الزام ہے کہ اس کے بدلے سرکاری تقرری کی سفارش کی گئی تھی۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اپریل 2022 میں کم نے سرکاری عہدے کے بدلے نیشنل ایجوکیشن کمیشن کے سابق سربراہ لی بی یونگ سے سونے کے کچھوے کی شکل کا زیور قبول کیا۔ اس پر ستمبر 2022 میں ایک کاروباری شخص سے ایک قیمتی گھڑی اور فروری 2023 میں ایک سابق پراسیکیوٹر سے معروف مصور لی یوفان کی پینٹنگ لینے کا بھی الزام ہے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر کی ٹیم نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2022 میں کم نے ایک پادری سے 5.4 ملین وون مالیت کا ڈائر ہینڈ بیگ قبول کیا۔ اس لین دین نے اگلے سال عوامی ہونے کے بعد جنوبی کوریا میں ایک بڑے سیاسی تنازع کو جنم دیاتھا۔
استغاثہ نے عدالت میں کہا کہ کم نے صدر کی اہلیہ کے طور پر اپنے عہدے اور اثر و رسوخ کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا اور اثر و رسوخ کے بدلے مہنگے تحائف قبول کیے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ اپیل کورٹ نے بھی کم کیون ہی کو کرپشن کے ایک الگ کیس میں چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ