اثاثے بحال ہونے کے بعد ان سے امریکی زرعی مصنوعات نہیں خریدیں گے: باقر قالیباف کا ٹرمپ کو جواب
تہران،26جون(ہ س)۔ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اصرار کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ کا یہ اعلان کہ تہران ان اثاثوں کو جن سے پابندی ہٹائی جا رہی ہے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کرے گا، درست نہیں ہے۔ باقر قالیباف، جو ایرانی پ
اثاثے بحال ہونے کے بعد ان سے امریکی زرعی مصنوعات نہیں خریدیں گے: باقر قالیباف کا ٹرمپ کو جواب


تہران،26جون(ہ س)۔ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اصرار کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ کا یہ اعلان کہ تہران ان اثاثوں کو جن سے پابندی ہٹائی جا رہی ہے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کرے گا، درست نہیں ہے۔ باقر قالیباف، جو ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کا عہدہ بھی سنبھالے ہوئے ہیں، نے پلیٹ فارم ” ایکس “پر لکھا کہ امریکہ جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے کہ جو رقم بحال کی جائے گی وہ اس کی زرعی مصنوعات کی خریداری پر خرچ ہوگی۔ حیرت کی بات ہے! واحد فصل جو ہم کاٹ رہے ہیں وہ وہی ہے جو آپ نے برسوں پہلے بوئی تھی۔ اور وہ فصل دہائیوں کا بے اعتمادی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین، ادھورے وعدوں اور کھوکھلے بیانات کے سوا کچھ برآمد نہیں کرتا۔ یاد رہے بدھ کے روز امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو دہرایا کہ ایرانی اثاثوں کا ایک بڑا حصہ جن سے پابندی ہٹائی جائے گی امریکی خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال ہوگا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کے روز ایک کانفرنس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ منجمد ایرانی اثاثے جنہیں بحال کیا جائے گا وہ ایرانی عوام کے فائدے کے لیے امریکی سویا بین، مکئی اور گندم کی خریداری کے لیے مختص کیے جائیں گے۔دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ وہ خود اس رقم کے اخراجات کے پہلووں کا تعین کرے گا۔ گزشتہ ہفتے دستخط کی جانے والی 14 نکات پر مشتمل مفاہمت کی یادداشت کی شقوں کے تحت، امریکہ ایران سے متعلق منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثوں کے مکمل استعمال کی اجازت دینےاور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سمیت ایران پر تمام قسم کی پابندیاں ختم کرنے کا عہد کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande