
بیجنگ، 26 جون (ہ س)۔ چین کے وزیر اعظم لی کیانگ نے کہا ہے کہ چین اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے، عملی تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچانے کے لیے بنگلہ دیش کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان روایتی دوستی مستقبل میں مزید مضبوط ہو گی اور دوطرفہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق لی کی چیانگ نے جمعرات کو بیجنگ میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ چین اور بنگلہ دیش قریبی پڑوسی اور دیرینہ روایتی دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین بنگلہ دیش کی قومی حالات اور نئی حکومت کے طرز حکمرانی کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔لی کیانگ نے کہا کہ چین بنگلہ دیش کے ساتھ ایک اچھے ہمسایہ اور قابل اعتماد دوست کے طور پر اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ ایسا کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک اعتماد کو گہرا کیا جائے گا اور عملی تعاون کو نئی رفتار دی جائے گی، تاکہ دوطرفہ شراکت داری سے دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ چین اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو آگے بڑھانے، بنگلہ دیش سے اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی درآمدات بڑھانے اور قابل چینی کمپنیوں کی وہاں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی توانائی، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے گی۔
چینی وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کثیرالجہتی فورمز میں ہم آہنگی اور تعاون کو بھی مضبوط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون مشترکہ مفادات کے تحفظ، ترقی پذیر ممالک کے درمیان یکجہتی اور خود انحصاری کو فروغ دینے اور گلوبل ساو¿تھ کی مشترکہ ترقی میں مزید کردار ادا کرنے کے لیے اہم ہوگا۔ ملاقات کے دوران بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بنگلہ دیش’ایک چین‘کے اصول پر مضبوطی سے عمل پیرا ہے اور تائیوان کی آزادی کے حصول کی کسی بھی کوشش کی واضح طور پر مخالفت کرتا ہے۔رحمان نے بنگلہ دیش کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے چین کی دیرینہ حمایت پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط برقرار رکھنے، ترقیاتی حکمت عملیوں کو بہتر طور پر مربوط کرنے اور تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کی حمایت کرتا ہے۔ یہ ’انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کے ساتھ کمیونٹی‘ کے تصور اور چین کے تجویز کردہ چار بڑے عالمی اقدامات کی بھی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کثیرالجہتی فورمز میں چین کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماو¿ں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کو چین بنگلہ دیش تعلقات کی تشکیل میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور کثیر جہتی تعاون جیسے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan