
علی گڑھ, 26 جون (ہ س)۔
یومِ عاشورہ کے موقع پر ضلع علی گڑھ میں نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا گیا۔ شہر اور ضلع کے مختلف امام باڑوں سے تعزیوں، علم کے ماتمی جلوس برآمد ہوئے، جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے کربلا شاہ جمال پہنچے، جہاں تعزیوں کی تدفین عمل میں آئی۔ جلوسوں میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کرتے ہوئے نوحہ خوانی، سینہ زنی اور زنجیر زنی کے ذریعے حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بیت الصلوٰۃ سے مرکزی جلوس کربلا کے لیے روانہ ہوا۔ اس موقع پر مقررین نے یومِ عاشورہ کو ظلم، جبر اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چودہ سو برس قبل میدانِ کربلا میں پیش آنے والا واقعہ انسانیت کے خلاف سب سے بڑا ظلم تھا اور آج بھی دنیا بھر میں جہاں کہیں ظلم و ناانصافی ہو رہی ہے، وہاں حضرت امام حسینؓ کی تعلیمات مشعلِ راہ ہیں۔
سول لائن کے مختلف علاقوں سے برآمد ہونے والے جلوس بیت الصلوٰۃ پر جمع ہوئے، جہاں سے مشترکہ جلوس کربلا شاہ جمال کی جانب روانہ ہوا، جبکہ قدیم شہر کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے ماتمی جلوس بھی کربلا پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے۔
شمشاد مارکیٹ پر خطاب کرتے ہوئے مولانا صادق عباس نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت حق، عدل اور انصاف کے قیام کے لیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ آج جن مسائل اور انتشار کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ سیرتِ حسینی سے دوری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نواسۂ رسولؐ کی پوری زندگی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
کربلا شاہ جمال میں خطاب کرتے ہوئے مولانا نوید عباس کاظمی نے کہا کہ محرم الحرام غم اور قربانی کا مہینہ ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد کے ساتھ حق و انصاف کے قیام کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
جلوسوں میں مختلف سیاسی، سماجی اور ملی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ سابق میئر محمد فرقان نے حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سابق سیکریٹری وویک بنسل نے بھی جلوس میں شریک ہو کر کہا کہ امام حسینؓ پوری انسانیت کے لیے رول ماڈل ہیں اور ان کی جدوجہد ظلم کے خلاف اور مظلوموں کی حمایت کے لیے تھی۔
ضلع انتظامیہ کی جانب سے عاشورہ کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ مفتیٔ شہر مولانا محمد خالد حمید، کربلا کے متولی سید مختار زیدی اور اولڈ بوائز ایسوسی ایشن اے ایم یو کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد اعظم میر کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل پر عوام نے مکمل عمل کیا۔ سید مختار زیدی نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ تنظیم العزا کے سیکریٹری سید نادر عباس نے ضلع انتظامیہ، پولیس اور تمام متعلقہ محکموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
جلوس کے راستوں میں مختلف مقامات پر عزاداروں اور راہگیروں کے لیے سبیلوں کا اہتمام کیا گیا، جہاں ٹھنڈے پانی، شربت اور دیگر مشروبات تقسیم کیے گئے۔ شمشاد مارکیٹ پر حسبِ روایت پرچم پارٹی آف انڈیا اور سماجوادی پارٹی کے یوتھ لیڈر خواجہ جبران، جو سابق ریاستی وزیر مرحوم خواجہ حلیم کے صاحبزادے ہیں، کی جانب سے خصوصی سبیل کا اہتمام کیا گیا، جہاں شہر کی متعدد سیاسی، سماجی اور ملی شخصیات نے شرکت کی۔
دوسری جانب امام باڑہ ریاست علی وقار حسین سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوا، جو ڈولی والی گلی، آتش بازان، ٹن ٹن پاڑہ، چوک بندو خاں اور جامع مسجد سے گزرتا ہوا کربلا پہنچا۔ اس کے علاوہ انجمنِ اصغری، انجمن لشکرِ عباس، انجمن وفادارانِ حسینی، انجمن یادگارِ حسینی، انجمن سوگوارانِ کربلا، انجمن لشکرِ حسینی سمیت دیگر ماتمی انجمنوں نے بھی نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعے حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ سید باڑہ، ترکمان گیٹ، بھوجپورہ اور امام باڑہ امام علی سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے، جو کربلا شاہ جمال پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ