دنیا کے 65.5 کروڑ لوگوں کے پاس بجلی کی سہولت نہیں، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ
دنیا کے 65.5 کروڑ لوگوں کے پاس بجلی کی سہولت نہیں، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ پیرس، 26 جون (ہ س)۔ ترقی کے ایجنڈے میں آج توانائی کا شعبہ سب سے اوپر ہے۔ اس کے باوجود پوری دنیا میں 65.5 کروڑ لوگوں کے پاس ابھی بھی بجلی کی سہولت نہیں ہے اور تقریباً دو ارب
علامتی تصویر


دنیا کے 65.5 کروڑ لوگوں کے پاس بجلی کی سہولت نہیں، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

پیرس، 26 جون (ہ س)۔ ترقی کے ایجنڈے میں آج توانائی کا شعبہ سب سے اوپر ہے۔ اس کے باوجود پوری دنیا میں 65.5 کروڑ لوگوں کے پاس ابھی بھی بجلی کی سہولت نہیں ہے اور تقریباً دو ارب لوگ کھانا پکانے کے لیے آلودگی پھیلانے والے ایندھن اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ اس سے ان کی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ یہ انکشاف اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق، عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ اثر سب صحارا افریقہ پر پڑا ہے۔ یہاں 56 کروڑ سے زیادہ لوگ بجلی کے بغیر رہ رہے ہیں اور 97 کروڑ لوگوں کے پاس کھانا پکانے کے لیے صاف ستھرے ایندھن کی سہولت نہیں ہے۔ ’ٹریکنگ ایس ڈی جی 7: دی انرجی پروگریس رپورٹ‘ کے نئے ایڈیشن میں دستیاب تفصیلات تشویشناک ہیں۔ اس میں 2023 اور 2024 کے مطالعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر علاقے سب کے لیے بجلی کی سہولت (یونیورسل ایکسیس) کے قریب پہنچ رہے ہیں، جبکہ سب صحارا افریقہ میں پیش رفت کافی سست ہے۔ 2030 تک سب کے لیے بجلی کی سہولت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اس کی رفتار کو تین گنا کرنا ہو گا۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ان چیلنجوں کے باوجود، پائیدار توانائی (سسٹین ایبل انرجی) کے کئی شعبوں میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔ اس نے دنیا بھر میں بجلی کی کل کھپت میں 30 فیصد سے زیادہ کا حصہ ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی قابلِ تجدید توانائی (رینیوایبل انرجی) پیدا کرنے کی صلاحیت 544 واٹ فی کس کی عالمی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ ترقی پذیر ممالک میں صاف ستھری توانائی کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی پبلک فائننشل فلو میں تھوڑا اضافہ ہوا اور یہ 24.6 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔

رپورٹ میں انتباہ دیا گیا ہے کہ اگر فوری اور بڑے پیمانے پر کارروائی نہ کی گئی تو دنیا 2030 تک سب کے لیے سستی، قابلِ بھروسہ، پائیدار اور جدید توانائی تک رسائی یقینی بنانے والے ایس ڈی جی 7 کے ہدف کو حاصل کرنے میں پیچھے رہ جائے گی۔ موجودہ عالمی توانائی کا بحران ابھی بھی جاری ہے۔ غریب ترین ممالک میں فنڈز کی سطح یا تو ایس ڈی جی 7 کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے یا پھر اس میں مسلسل گراوٹ آ رہی ہے۔ سب سے کم ترقی یافتہ ممالک میں صاف ستھری توانائی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی مدد میں کافی کمی آئی ہے۔ 2024 میں یہ 3.7 ارب ڈالر رہی، جو 2023 کے مقابلے 11 فیصد کم ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande