پولیس نے لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والی دو طالبات کو ان کے والدین کے حوالے کیا
دہرادون، 25 جون (ہ س)۔ لیو ان ریلیشن شپ کے معاملے میں اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون میں پولیس نے دو طالبات کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ یہ کارروائی یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کی دفعات کی بنیاد پر کی گئی ہے جو لیو ان ریلیشن شپ
لیو


دہرادون، 25 جون (ہ س)۔ لیو ان ریلیشن شپ کے معاملے میں اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون میں پولیس نے دو طالبات کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ یہ کارروائی یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کی دفعات کی بنیاد پر کی گئی ہے جو لیو ان ریلیشن شپ کے رجسٹریشن کو کنٹرول کرتی ہے۔

پولیس کے مطابق اطلاع ملی تھی کہ دہرادون کے پریم نگر علاقے میں اتراکھنڈ بی ایف آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم کچھ طالبات لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہی ہیں۔ جب لڑکیوں سے لیو ان ریلیشن شپ کے حوالے سے رجسٹریشن اور دیگر ضروری دستاویزات مانگی گئیں تو وہ انہیں پیش کرنے سے قاصر رہیں۔

اس کے بعد یو سی سی کی دفعات کے مطابق ان طلباءکے والدین کو آگاہ کیا گیا۔ دہرادون پہنچنے پر دونوں طالبہ کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے کچھ نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

بی ایف آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، دہرادون، اتراکھنڈ کی تین لڑکیاں، ایک چمولی کی، ایک پوڑی کی اور ایک ہلدوانی کی، سبھی دہرادون میں بی ٹیک کر رہی ہیں اوریہ تینوں مسلم لڑکوں کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں ر ہ رہی تھیں۔ الزام ہے کہ ان میں سے دو لڑکیوں کا مسلمان لڑکوں نے مذہب تبدیل کرایا تھا۔ ان کے فون میں برقع اور حجاب میں ملبوس ہزاروں فحش ویڈیوز ملیں اور ان کے کمروں سے قابل اعتراض مواد بھی ملا۔

اس معاملے کو ہندوتوا تنظیموں نے اٹھا کر پریم نگر تھانے میں اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے دونوں لڑکیوں کی بات سننے سمجھنے کے بعد والدین کو اطلاع دی۔

لڑکیوں نے بتایا کہ وہ لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہی تھیں۔ پولیس افسران نے ان سے رجسٹریشن اور دیگر دستاویزات طلب کیں۔ جب وہ انہیں پیش کرنے میں ناکام رہے تو ان کے والدین کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو سی سی) قوانین کے تحت مطلع کیا گیا۔ دہرادون پہنچنے پر دونوں لڑکیوں کو ان کے والدین کے پاس واپس کر دیا گیا۔ جبکہ ملزم مسلم نوجوانوں عاقب، کبیر اور ایک دوسرے کو پولس نے اپنی تحویل میں لے لیا، وہیں پی جی مالک کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) پرمود ڈوبال نے کہا کہ بجرنگ دل کارکنوں سے اطلاع ملنے کے بعد پولیس وہاں پہنچی اور ضروری قانونی کارروائی کی۔

قابل ذکر ہے کہ اتراکھنڈ میں لاگو یو سی سی کے تحت لیو ان ریلیشن شپ کا رجسٹریشن لازمی قرار دیا گیا ہے اور متعلقہ فریقوں کے والدین کو مقررہ حالات میں مطلع کرنے کا بھی انتظام ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande