اتر پردیش میں مربوط ٹراما اور ایمرجنسی نیٹ ورک قائم کیا جائے گا
لکھنؤ، 25 جون (ہ س)۔ اتر پردیش کے چیف سیکریٹری ایس پی گوئل کی صدارت میں جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں ریاست میں ٹراما اور ہنگامی طبی خدمات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے مقصد سے ریاستی سطح پر مربوط ٹراما و ایمرجنسی نیٹ ورک (یو پی ٹی ای این) کے قیام س
اتر پردیش میں مربوط ٹراما اور ایمرجنسی نیٹ ورک قائم کیا جائے گا


لکھنؤ، 25 جون (ہ س)۔ اتر پردیش کے چیف سیکریٹری ایس پی گوئل کی صدارت میں جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں ریاست میں ٹراما اور ہنگامی طبی خدمات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے مقصد سے ریاستی سطح پر مربوط ٹراما و ایمرجنسی نیٹ ورک (یو پی ٹی ای این) کے قیام سے متعلق ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔

پریزنٹیشن کے بعد چیف سیکریٹری نے مربوط ٹراما اور ایمرجنسی نیٹ ورک کے قیام کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد آئندہ کارروائی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری، طبی و صحت امت کمار گھوش نے بتایا کہ ریاست میں سڑک حادثات، شدید جھلسنے، دل کے دورے، فالج، سیپسس، زہریلے مادوں کے اثرات، نیز زچگی اور اطفال سے متعلق ہنگامی حالات کے مؤثر انتظام کے لیے فی الحال ایک مربوط اور یکجا نظام موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹراما اور ایمرجنسی خدمات کے استحکام کے لیے قائم ٹیکنیکل ٹاسک فورس کمیٹی نے ریاست گیر مربوط ٹراما اور ایمرجنسی نظام کے قیام کی سفارش کی ہے۔

اس منصوبے کے تحت لیول-1 میں 11 اعلیٰ اور اہم تدریسی طبی اداروں کو شامل کیا جائے گا، جبکہ لیول-2 میں 36 میڈیکل کالجوں کو جوڑا جائے گا۔ لیول-3 پر مریضوں کے ابتدائی استحکام (اسٹیبلائزیشن) کے لیے 126 مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ابتدائی مرحلے میں 137 نجی طبی اداروں کو بھی اس نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا۔

اس طرح یو پی ٹی ای این کے پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 310 طبی یونٹس اور مراکز شامل ہوں گے۔ ضرورت کے مطابق مستقبل میں اس نیٹ ورک کو مزید وسعت بھی دی جا سکے گی۔

منصوبے کو عملی ضرورتوں کے پیش نظر تین مراحل میں نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نیٹ ورک کے مؤثر آپریشن اور مسلسل نگرانی کے لیے ریاستی سطح پر ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے تمام ایمرجنسی کمانڈ مراکز کو تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ یہ نظام ایمبولینس خدمات کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرتے ہوئے ریئل ٹائم بیڈ دستیابی کا انتظام کرے گا، مریضوں کی ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک منتقلی کو آسان بنائے گا اور ڈیٹا جمع کرنے و شکایات کے ازالے کے لیے نوڈل نظام کے طور پر کام کرے گا۔

یو پی ٹی ای این کو ریاست کی 108 ایمبولینس سروس اور 112 ایمرجنسی سروس کے ساتھ بھی مربوط کیا جائے گا، جس سے ہنگامی طبی ردعمل کے نظام کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔

مجوزہ نظام کے تحت ہنگامی علاج کے ابتدائی 48 گھنٹوں تک مفت طبی سہولت فراہم کرنے اور نیٹ ورک کو ٹیلی میڈیسن و ڈیجیٹل صحت کے نظام سے مربوط کرنے کی بھی تجویز ہے۔ اس سے ریاست میں ہنگامی طبی خدمات کے معیار، رسائی اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔

اجلاس میں سیکریٹری طبی و صحت ڈاکٹر پنکی جوئل، ڈائریکٹر جنرل میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر ساریکا موہن خصوصی سیکریٹری طبی تعلیم کریتیکا شرما قائم شدہ کمیٹی کے عہدیداران، طبی و صحت محکمہ سمیت مختلف محکموں کے سینئر افسران موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande