
ممبئی میں ایچ آئی وی کنٹرول پروگرام پر بحران، ماہرین صحت نے ظاہر کی تشویشممبئی، 25 جون (ہ س)۔ ممبئی میں ایچ آئی وی/ایڈز پر قابو پانے کے لیے جاری اہم پروگراموں پر انتظامی بے توجہی کے الزامات کے درمیان صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ممبئی ڈسٹرکٹ ایڈز کنٹرول سوسائٹی (ایم ڈی اے سی ایس) کے تحت چلائے جانے والے ایچ آئی وی کی روک تھام اور بیداری پروگرام کے تسلسل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو شہر میں ایچ آئی وی انفیکشن کے معاملات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق زیادہ خطرے سے دوچار طبقات میں باقاعدہ جانچ کیمپ، بیداری مہم اور کنڈوم کی تقسیم جیسی سرگرمیوں میں کمی آنے سے نئے انفیکشن کے معاملات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی) اور مشاورتی خدمات میں رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں مریضوں کے علاج سے دور ہونے اور دوا سے مزاحمت رکھنے والے ایچ آئی وی کے پھیلنے کا بھی اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حاملہ خواتین کی بروقت جانچ اور علاج متاثر ہوا تو نوزائیدہ بچوں میں بھی انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔دریں اثنا، اس منصوبے میں دو دہائیوں سے زائد عرصے سے خدمات انجام دینے والے کنٹریکٹ ملازمین کے مستقبل پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ میونسپل مزدور یونین ممبئی کے مشترکہ سکریٹری پردیپ نارکر نے کہا کہ ایم ڈی اے سی ایس ممبئی کے عوامی صحت کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کی خدمات کا تسلسل برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ادارے اور اس کے ملازمین سے متعلق جلد فیصلہ کیا جائے اور ایچ آئی وی کنٹرول پروگرام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ ممکنہ صحت بحران سے ممبئی کو محفوظ رکھا جا سکے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے