
سنجے راؤت پہلے اپنی جماعت کے بچے کھچے بے اثر لوگ سنبھالیں، پھر کھوکھلی دھمکیاں دیں : نوناتھ بانممبئی، 25 جون (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی چیف ترجمان نوناتھ بان نے شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے راجیہ سبھا کے رکن سنجے راؤت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بم کی دھمکیاں دینے اور وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرنے والے سنجے راؤت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب ان کے پاس نہ بم بچے ہیں اور نہ ہی سوتلی بم۔ ان کے پاس صرف بے اثر لاونگی پٹاخے رہ گئے ہیں، اس لیے وہ صرف فضول بیانات اور کھوکھلی دھمکیاں ہی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے کسی سے اجازت نہیں لیتے اور عوام بھی سنجے راؤت کو سبق سکھا چکی ہے، اس لیے پہلے اپنی جماعت کے بچے کھچے بے اثر لوگ سنبھالیں، پھر دوسروں کو دھمکیاں دیں۔نوناتھ بان نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کو مہاوکاس اگھاڑی کو متحد رکھنے کی کوشش کرنے کے بجائے پہلے اپنی پارٹی کو متحد رکھنے پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ شیو سینا (ادھو) میں بھاسکر جادھو اور ملند نارویکر، نیز آدتیہ ٹھاکرے اور سنجے راؤت کے درمیان واضح گروہ بندی ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کئی دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، اس لیے سنجے راؤت پہلے اپنی جماعت کو سنبھالیں، پھر مہاوکاس اگھاڑی کو متحد کرنے کی بات کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ سنجے راؤت اور کانگریس نے رام مندر کی مخالفت کی تھی اور مندر وہیں بنائیں گے، تاریخ نہیں بتائیں گے جیسے نعروں کا مذاق اڑایا تھا۔ اب مبینہ چندہ پیٹی معاملے میں بی جے پی پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، حالانکہ ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ جاری ہے اور اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کا الزام تھا کہ کانگریس رام مندر اور بھگوان رام کے نظریات کو بدنام کرنا چاہتی ہے اور سنجے راؤت اس میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں، لیکن ملک کے 140 کروڑ عوام کی عقیدت بھگوان رام سے وابستہ ہے، اس لیے ایسے الزامات عوام قبول نہیں کریں گے۔نوناتھ بان نے سنجے راؤت پر ایمرجنسی کی حمایت کرنے کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر ایمرجنسی کا سیاہ باب نصابی کتابوں میں شامل کیا جا رہا ہے تو اس پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سنجے راؤت جے پرکاش نارائن، اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی جیسے رہنماؤں پر بھی تنقید کر رہے ہیں، جبکہ ایمرجنسی کے دوران عام شہریوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا اور اس تاریخ سے عوام کو آگاہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کی حمایت کی وجہ سے سنجے راؤت کو ایمرجنسی درست محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج ایمرجنسی ان کی اپنی پارٹی کے اندر ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اپنی جماعت کے اندرونی بحران کو ختم کریں اور بلاوجہ کانگریس اور راہل گاندھی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے ایمرجنسی کا دفاع نہ کریں، ورنہ اس کا سیاسی نقصان انہیں ہی اٹھانا پڑے گا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے