ایران کے خلاف کارروائیاں ختم کرنے کے حق میں امریکی سینیٹ کی ووٹنگ
واشنگٹن،24جون(ہ س)۔امریکہ میں ریپبلکن اکثریت رکھنے والی سینیٹ نے منگل کے روز ایک بل کی حمایت کی جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو روکنا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تہران کے ساتھ امن معاہدے ک
ایران کے خلاف کارروائیاں ختم کرنے کے حق میں امریکی سینیٹ کی ووٹنگ


واشنگٹن،24جون(ہ س)۔امریکہ میں ریپبلکن اکثریت رکھنے والی سینیٹ نے منگل کے روز ایک بل کی حمایت کی جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو روکنا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تہران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔یہ قرارداد جسے کانگریس نے 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور کیا، کانگریسی قواعد کی وجہ سے صدر کو اس پر ویٹو پاور استعمال کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس مہینے کے اوائل میں ایوان نمائندگان میں اس متن پر بحث کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپوزیشن ڈیموکریٹس اور ان کا ساتھ دینے والے چار ریپبلکن اراکین کے ووٹ کو غیر حب الوطنی قرار دیا تھا۔

امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان صرف کانگریس کا اختیار ہے۔ اگرچہ قانون صدر کو کسی فوری خطرے کے جواب میں جنگی کارروائی شروع کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس کے لیے 60 دنوں کے اندر کانگریس کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی کے اوائل میں اس مہلت سے تجاوز کیا اور جواز یہ پیش کیا کہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والا تنازع جنگ بندی کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے۔ڈیموکریٹس اس جواز کو مسترد کرتے ہیں اور امریکی افواج کی مسلسل میدانی شمولیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، حالانکہ گذشتہ ہفتے دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت کے تحت امریکی جنگی جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ امریکیوں نے ایران میں ٹرمپ کی تاریخی غلطی کی قیمت چکائی ہے اور انہیں یہ جنگ کبھی شروع نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن سینیٹر جم ریش نے ساتھیوں پر زور دیا کہ وہ اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ قرارداد منظور ہوئی تو ایرانی مذاکرات سے نکل جائیں گے، اس لیے سفارت کاری کو کام کرنے دیا جائے۔یہ قرارداد ٹرمپ کو ایران کے ساتھ کسی بھی جنگی کارروائی سے امریکی افواج کو نکالنے کا پابند بناتی ہے، لیکن یہ ووٹ علامتی رہنے کا امکان ہے۔ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت ایسی قرارداد دستخط کے لیے وائٹ ہاو¿س نہیں بھیجی جاتی، تاہم وائٹ ہاو¿س اس بل کو غیر آئینی اور غیر پابند قرار دیتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ قانونی تنازع کا باعث ہے اور اس کا فیصلہ عدالتوں میں ہونے کا امکان ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو اسکاٹ اینڈرسن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ آئینی وجوہات کی بنا پر اس قرارداد کو نظر انداز کرے گی اور یہ واضح نہیں ہے کہ اسے نافذ کرانے کے لیے مقدمہ دائر کرنے کا حق کس کے پاس ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande