کسانوں کے مسائل کو لیکر کانگریس کا مظاہرہ، ایس ڈی ایم دفتر کے باہر دیر رات تک دھرنے پر بیٹھے کارکنان
امریا، 24 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے امریا ضلع کی مانپور اسمبلی سیٹ پر کسانوں کے مسائل کو لے کر نکالی گئی کانگریس کی ’کسان سمان یاترا‘ کے دوران انتظامیہ اور کانگریس کارکنوں کے درمیان ٹکراو کی صورت حال بن گئی۔ میمورنڈم لینے کے لیے ایس ڈی ایم کے
کانگریس نے دیر رات تک کسانوں کے مسائل کو لے کر ایس ڈی ایم دفتر کا گھیراو کیا


امریا، 24 جون (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے امریا ضلع کی مانپور اسمبلی سیٹ پر کسانوں کے مسائل کو لے کر نکالی گئی کانگریس کی ’کسان سمان یاترا‘ کے دوران انتظامیہ اور کانگریس کارکنوں کے درمیان ٹکراو کی صورت حال بن گئی۔ میمورنڈم لینے کے لیے ایس ڈی ایم کے موقع پر نہیں پہنچنے سے ناراض کانگریس رہنماوں اور کارکنوں نے منگل کی دیر رات ایس ڈی ایم دفتر کا گھیراو کر دیا اور دھرنے پر بیٹھے رہے۔

کانگریس کی کسان سمان یاترا کے دوران سابق کابینی وزیر کملیشور پٹیل اور رکن اسمبلی پھوندے لال سنگھ مارکو سمیت بڑی تعداد میں کارکنان کسانوں کے مطالبات کو لے کر میمورنڈم سونپنے پہنچے تھے۔ کانگریس رہنماوں کا الزام تھا کہ کسانوں کے مسائل کے سلسلے میں میمورنڈم لینے کے لیے ایس ڈی ایم ہرنیت کور کلسی کو موجود رہنا تھا، لیکن ان کے نہیں پہنچنے سے کارکنوں میں ناراضگی بڑھ گئی۔

اس کے بعد کانگریس کارکنوں نے ایس ڈی ایم دفتر کے احاطے میں دھرنا شروع کر دیا اور موقع پر کلکٹر راکھی سہائے کو بلا کر میمورنڈم لینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ صورت حال کو سنبھالنے کے لیے تحصیلدار پنکج نین تیواری نے کانگریس رہنماوں سے گفتگو کی اور میمورنڈم قبول کر کے اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا یقین دلایا، لیکن کارکنان کلکٹر کی موجودگی کے مطالبے پر بضد رہے۔

سابق وزیر کملیشور پٹیل نے کہا کہ پورے صوبے میں کسان کھاد، یوریا، ڈی اے پی اور زنک کی کمی سے پریشان ہیں۔ بجلی کی فراہمی کے مسئلے اور ڈیزل کی دستیابی کو لے کر بھی کسان پریشان ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے، جس کی وجہ سے کانگریس کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔

وہیں کانگریس رکن اسمبلی پھوندے لال سنگھ مارکو اور دیگر رہنماوں کی موجودگی میں بڑی تعداد میں کارکنان دیر رات تک ایس ڈی ایم دفتر کے باہر ڈٹے رہے۔ کانگریس رہنماوں کا کہنا تھا کہ کسانوں کے مسائل حل ہونے تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

انتظامیہ کی جانب سے معاملے کو پرامن بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن دیر رات تک مظاہرین اپنے مطالبات پر قائم رہے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ کسانوں کے مسائل کے تئیں انتظامیہ کا رویہ سرد مہر ہے، جبکہ انتظامی سطح پر میمورنڈم قبول کر کے کارروائی کا بھروسا دلایا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande