ایران کے منجمد اثاثوں کو امریکی مصنوعات کی خریداری سے جوڑنے کی خبریں بے بنیاد:ایران
تہران،24جون(ہ س)۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے منگل کے روز ان خبروں کی تردید کی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی کو امریکہ سے زرعی مصنوعات یا دیگر اشیاءکی خریداری سے مشروط کیا گیا ہے۔ایرانی ٹیلی ویژن سے
ایران کے منجمد اثاثوں کو امریکی مصنوعات کی خریداری سے جوڑنے کی خبریں بے بنیاد:ایران


تہران،24جون(ہ س)۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے منگل کے روز ان خبروں کی تردید کی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی کو امریکہ سے زرعی مصنوعات یا دیگر اشیاءکی خریداری سے مشروط کیا گیا ہے۔ایرانی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ یہ دعوے کہ ایران کو اپنے منجمد فنڈز کے اجراءکے بدلے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کی پابندی قبول کرنا ہوگی،جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔اس سے قبل ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتی نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ معاہدے کے تحت ایران کو حاصل ہونے والی رقم امریکی برآمدات پر خرچ کی جائے گی۔

ہمتی نے وضاحت کی کہ ابتدائی طور پر جاری کیے گئے 12 ارب ڈالر بنیادی ضروریات اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے تہران کو اپنے دیگر مالی وسائل مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش ملے گی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک بار پھر مو¿قف اختیار کیا کہ ایران کے منجمد اثاثوں سے جاری ہونے والی رقم صرف امریکہ سے زرعی مصنوعات اور ادویات خریدنے کے لیے استعمال کی جا سکے گی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا کہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کی جانے والی رقم یا پابندیوں کے تحت حاصل ہونے والے فنڈز ایک ایسے امانتی اکاو¿نٹ (Escrow Account) میں جمع ہوں گے ،جو امریکہ کے کنٹرول میں ہوگا اور یہ رقم صرف امریکہ سے خوراک اور ادویات خریدنے پر خرچ کی جا سکے گی، جن میں مکئی، گندم اور سویابین جیسی زرعی اجناس شامل ہیں۔ٹرمپ نے اسی مو¿قف کا اظہار پیر کے روز بھی کیا تھا، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس مو¿قف کی تائید کی ہے۔ تاہم ایرانی حکام ان دعوو¿ں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ منجمد فنڈز کے استعمال پر ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی۔یاد رہے کہ 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت (مذکرہ تفاہم) کی 14 شقوں میں سے ایک شق کے تحت ایران کو امریکی پابندیوں میں نرمی دینے اور بیرونِ ملک منجمد بعض ایرانی مالی اثاثوں کی رہائی کی منظوری دی گئی تھی۔دوسری جانب امریکی وزارتِ خزانہ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایران کے خام تیل اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل پر عائد بعض پابندیوں کو 21 اگست تک عارضی طور پر معطل رکھا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔یہ فیصلہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جہاں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی حکام نے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریق? کار پر بات چیت کی۔مذاکرات کے دوران فریقین نے پابندیوں، منجمد اثاثوں، آبنائے ہرمز، ایرانی جوہری پروگرام اور لبنان سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا، تاکہ ان معاملات میں پیش رفت اور اختلافات کے حل کو ممکن بنایا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande